کام ایک دن لیٹ ہو جائے تو اداکار کو “غیر پیشہ ور” کہہ دیا جاتا ہے، لیکن جب وہی پروڈیوسر اداکار کا معاوضہ مہینوں تک دبائے رکھے تو جواب ایک ہی ملتا ہے — “اکاؤنٹس میں پراسیس چل رہا ہے۔” پاکستانی ٹیلی ویژن کی ابھرتی ہوئی اداکارہ سحر ہاشمی نے اسی دوہرے معیار پر انسٹاگرام کے ذریعے کھل کر سوال اٹھایا ہے، اور ان کی یہ بات انڈسٹری کی ایک پرانی اور تکلیف دہ بحث کو ایک بار پھر زندہ کر گئی ہے۔
ARY News کے مطابق سحر نے 15 اکتوبر کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا تھا: “If work is late by even 1 day, then it is ‘unprofessional’. If the payment is 30 days late then ‘process is going on in the accounts. Professionalism happens from both sides.'” یعنی پیشہ ورانہ رویے کی توقع صرف فنکار سے نہیں، دونوں طرف سے ہونی چاہیے۔
ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سحر نے اس پوسٹ میں کسی فرد یا پروڈکشن ہاؤس کا نام نہیں لیا۔ ان کا نکتہ سادہ تھا: ڈیڈ لائن سے ایک دن کی تاخیر پر فنکار کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ معاوضے کی ادائیگی میں تیس دن یا اس سے بھی زیادہ کی تاخیر کو محض اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے کھاتے میں ڈال کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سحر نے یہ بات کسی انٹرویو یا پریس کانفرنس میں نہیں کہی — انہوں نے محض ایک انسٹاگرام اسٹوری شیئر کی، اور وہی اسٹوری چند گھنٹوں میں خبروں کی زینت بن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا گہرا ہے: فنکاروں کو اس پر بات کرنے کے لیے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑتا ہے، کیونکہ انڈسٹری کے اندر اس پر کھل کر بات کرنے کا کوئی باقاعدہ پلیٹ فارم موجود نہیں۔
سحر ہاشمی ان چند نوجوان اداکاراؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل دنیا سے ٹیلی ویژن کا سفر بہت کم عرصے میں طے کیا۔ انہوں نے 2023 میں ہم ٹی وی کے ڈرامے “ظلم” سے اداکاری کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے عیشا کا مرکزی کردار نبھایا — فیصل قریشی اور شہزاد شیخ جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے مقابل۔ اسی کردار پر انہیں ہم ایوارڈ برائے بہترین نئی اداکارہ بھی ملا۔ اس کے بعد “شیدائی” اور “زنجیریں” میں شہر بانو کے کردار سے انہوں نے ناقدین کی توجہ حاصل کی، اور اب وہ اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے درِ نجات میں خوش بخت کے نوجوان روپ میں نظر آ رہی ہیں — وہی ڈرامہ جس نے حال ہی میں 16.3 ٹی آر پی کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی فنکار نے معاوضوں کی تاخیر کا مسئلہ اٹھایا ہو۔ ARY کے مطابق اس سے قبل احمد علی بٹ، نادیہ افغان اور محمد احمد سمیت کئی اداکار اسی شکایت کو زبان دے چکے ہیں، جبکہ ہدایت کارہ مہرین جبار بھی انڈسٹری کے ماحول کو بنیادی طور پر ناقص قرار دے کر فنکاروں کے لیے قانونی تحفظ کی کمی کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق سحر کی اس پوسٹ نے انڈسٹری میں فنکاروں کے حقوق اور پیشہ ورانہ رویے پر بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔
سحر کی بات اس لیے وزن رکھتی ہے کہ یہ کسی ناکام یا حاشیے پر کھڑے فنکار کی شکایت نہیں — یہ اس نسل کی آواز ہے جو آج پاکستانی ٹیلی ویژن چلا رہی ہے۔ ایک طرف ڈرامے ریکارڈ ٹی آر پی توڑ رہے ہیں اور چینلز کی آمدنی بڑھ رہی ہے، دوسری طرف وہی چہرے جن کی بدولت یہ کامیابی ممکن ہوتی ہے، اپنے جائز معاوضے کے لیے مہینوں اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے چکر کاٹتے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ مسئلہ ہے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز اسے کب تک “اکاؤنٹس کا مسئلہ” کہہ کر ٹالتے رہیں گے۔ نوجوان فنکار اب کھل کر بولنے لگے ہیں، اور یہ وہ تبدیلی ہے جسے دبانا اب شاید ممکن نہ رہے۔

قارئین کے تبصرے (0)