Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

بینکاک سے بڑا اعلان: اورنگزیب کا چار فیصد سے زائد نمو اور پرائیویٹائزیشن سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی آمد کا دعویٰ

واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا ہیڈکوارٹر

بینکاک — پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا ہے کہ رواں مالی سال میں ملک کی معیشت کی نمو چار فیصد سے زیادہ رہے گی، اور حکومت پانچ سے چھ سرکاری اداروں کی پرائیویٹائزیشن مکمل کر کے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم اکٹھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو تھائی دارالحکومت بینکاک میں دیے گئے انٹرویو میں، جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوا، اورنگزیب نے کہا: «میں اب بھی بالکل واضح ہوں کہ ہم چار فیصد سے زیادہ نمو حاصل کریں گے۔» ان کے بقول تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود حکومت معیشت کو راہ پر رکھے ہوئے ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان کی معیشت مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع سے خاص طور پر متاثر ہونے کے خطرے میں ہے، کیونکہ ملک خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمد، ترسیلات زر اور مالی امداد پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے باوجود اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایندھن کی مناسب مقدار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، کوئی قلت نہیں آئی، اور زراعت جیسے اہم شعبے مضبوط کھڑے ہیں۔ مہنگائی پر انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر «بہت باریک نظر» رکھے ہوئے ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پرائیویٹائزیشن کا منصوبہ

اورنگزیب کے مطابق گزشتہ برس قومی ایئرلائن پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کے بعد اب پائپ لائن میں تقریباً ایک درجن سرکاری ادارے ہیں، جن میں سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیاں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز کو نجی شعبے کے حوالے کرنا شامل ہے۔ ان کے الفاظ میں: «میں توقع کرتا ہوں کہ اس مالی سال کے دوران ان میں سے پانچ یا چھ سودے مکمل ہوں گے،» اور ان سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی آمد متوقع ہے۔

پرائیویٹائزیشن کو آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی اصلاحاتی ساکھ کا اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ حکام پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کو فروخت نہ کیا گیا تو سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اورنگزیب نے واضح کیا: «ہم بالکل واضح ہیں کہ ملک کی قیادت نجی شعبے کو کرنی ہے۔ ہماری ذمہ داری اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔»

امریکہ سے دس ارب ڈالر کی سہولت؟

انٹرویو میں اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دس ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے اختتام کی کوئی مدت نہیں بتائی، البتہ کہا کہ «اگر یہ مل جاتی ہے تو ہمارے لیے یہ بڑی مدد ہوگی۔ اور اگر نہ بھی ملے تو بازار سے فنڈز حاصل کرنے میں ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔» اس سہولت کے علاوہ امریکہ کے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن سے بھی بات چیت جاری ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے چوتھے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا، جس سے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت مل سکتی ہے۔

آپ کی جیب کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

یہاں رک کر سوچیے: چار فیصد سے زائد نمو کا دعویٰ خوش آئند ہے، مگر عام پاکستانی کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ یہ نمو اس کی جیب تک کیسے پہنچے گی۔ حالیہ ہفتوں کی خبریں اس دعوے کے ساتھ کچھ متضاد تصویر پیش کرتی ہیں — ہفتہ وار مہنگائی 11.97 فیصد پر ہے، ڈالر 277 روپے کے لگ بھگ پھنسا ہوا ہے، اور پٹرول 399 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔

اورنگزیب کا جواب اس تناظر میں ہے: حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو بیچ کر خسارے کا بوجھ خزانے سے اتارا جائے، اور نجی شعبے کو آگے لایا جائے۔ اگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری واقعی بجلی کی چوری اور لائن لاسز کم کر دے تو بجلی کے بلوں میں ریلیف کا راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک پرانا سبق بھی ہے — ماضی میں بھی پرائیویٹائزیشن کے اعلانات ہوتے رہے، اور عملدرآمد اکثر سست رہا۔ آئی ایم ایف کی نظر میں یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی «ساکھ» پرکھے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ بینکاک میں یہ گفتگو محض انٹرویو نہیں — 12 سے 18 اکتوبر تک ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں 191 ممالک کے پندرہ ہزار سے زائد شرکا موجود ہیں، اور پاکستان ان اجلاسوں میں اپنی معاشی کہانی عالمی سرمایہ کاروں کو بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ کہانی خرید لی گئی تو روپے کی قدر مستحکم رہے گی اور قرضوں کا بوجھ کم ہوگا۔ اگر نہیں — تو چار فیصد نمو کا دعویٰ صرف ایک دعویٰ رہ جائے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا ہیڈکوارٹر
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *