بچوں کو کھیل کے میدان میں بھیجنا اب صرف جسمانی صحت کا سوال نہیں رہا۔ آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے ایک ہزار سے زائد بچوں کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فالو اپ کر کے دیکھا ہے کہ بچپن میں جن بچوں کی دوڑنے کی رفتار بہتر تھی، جوانی میں انہیں ڈپریشن کا خطرہ کم رہا۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف تسمانیہ کے مینزیز انسٹیٹیوٹ برائے طبی تحقیق اور یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے ماہرین نے کی ہے، اور اسے جرنل آف ایفیکٹیو ڈسآرڈرز میں شائع کیا گیا۔ محققین نے Childhood Determinants of Adult Health نامی سروے کا ڈیٹا استعمال کیا، جس میں 1985 میں سات سے پندرہ سال کی عمر کے ایک ہزار سے زائد آسٹریلوی بچوں کی فٹنس ناپی گئی تھی۔ انھیں تیس سال سے زائد بعد، جب وہ چھتیس سے اننچاس سال کے تھے، دوبارہ جانچا گیا۔
بچپن میں فٹنس کو کئی طرح سے ناپا گیا: دل اور پھیپھڑوں کی صلاحیت کے لیے 1.6 کلومیٹر کی دوڑ، عضلات کی طاقت کے لیے لمبی چھلانگ، جب کہ ایک چھوٹے گروپ نے سائیکلنگ اور ہاتھ کی گرفت کے ٹیسٹ بھی دیے۔ سب سے نمایاں اور مستقل تعلق اسی فٹنس کا سامنے آیا جو بھاگنے، سائیکل چلانے اور تیرنے جیسی سرگرمیوں سے بنتی ہے — یعنی دل و پھیپھڑوں کی فٹنس۔
اوسط دوڑ کا وقت آٹھ منٹ اور ستائیس سیکنڈ رہا۔ جو بچے اوسط سے ایک منٹ پندرہ سیکنڈ تیز دوڑے، یعنی جن کی سانس کی صلاحیت بہتر تھی، انہیں بالغ ہونے پر ڈپریشن کا خطرہ نمایاں طور پر کم رہا۔ تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر بروکلین فریزر کے مطابق ایک معیاری درجے کی بہتر دوڑنے کی رفتار تقریباً تیرہ فیصد کم خطرے سے وابستہ تھی۔ یہ حفاظتی اثر پہلے ٹیسٹ کے پانچ سے دس سال بعد سب سے مضبوط تھا اور چونتیس سال کے فالو اپ میں کمزور ہونے کے باوجود برقرار رہا۔ لڑکیوں میں یہ تعلق لڑکوں سے زیادہ واضح نظر آیا۔
تحقیق کی سرکردہ مصنف ڈاکٹر کائل اسمتھ نے کہا کہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ بچپن کی ناقص فٹنس جوانی میں ڈپریشن کا سبب بنتی ہے، مگر نتائج بتاتے ہیں کہ بچپن کی فٹنس کے فائدے صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں۔
یہ تحقیق پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
یہ مطالعہ محض اس لیے اہم نہیں کہ اس نے ایک نئی طبی کڑی دریافت کی، بلکہ اس لیے کہ یہ ہمارے اسکولوں اور محلوں پر براہِ راست سوال اٹھاتا ہے۔ پاکستان میں شہروں کے اسکولوں میں کھیل کے میدان سکڑ رہے ہیں، موبائل اسکرینوں نے گلی محلوں کا کھیل کھا لیا ہے، اور جسمانی تعلیم اکثر نصاب کا وہ حصہ ہے جسے پہلے ختم کیا جاتا ہے۔ جب تحقیق بتاتی ہے کہ بچپن کی ہانپنے پھولنے والی سرگرمیوں کا اثر تیس سال بعد کی ذہنی صحت تک پہنچتا ہے، تو کھیل کود کی پالیسی کو فضول خرچی نہیں، بلکہ ذہنی صحت میں سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔
البتہ ایک احتیاط بھی ضروری ہے: یہ مشاہداتی تحقیق ہے، ثبوت نہیں کہ دوڑنے سے ڈپریشن خود بخود رک جائے گا۔ محققین کے مطابق خاندانی آمدنی، گھر کا ماحول اور بچپن کی ذہنی کیفیت بھی دونوں چیزوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پھر بھی، جب بچوں کو متحرک رکھنے کا کوئی منفی پہلو نہیں، تو اس کا فائدہ اتنے طویل عرصے تک دیکھنا والدین اور پالیسی سازوں دونوں کے لیے ایک مضبوط دلیل ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)