Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا: 2026 میں 1155 اموات، دو لاکھ سے زائد مشتبہ کیسز

خسرہ سے متاثر بچہ — چہرے اور جسم پر خسرہ کے سرخ دانے واضح

ڈھاکہ — بنگلہ دیش میں خسرہ کی بدترین وبا رکے کا نام نہیں لے رہی۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے (10 اکتوبر) کی صبح سے پہلے کے 24 گھنٹوں میں مزید 8 بچے خسرہ جیسی علامات کے ساتھ جاں بحق ہو گئے، جس سے رواں سال کے دوران ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1155 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (DGHS) کے مطابق ان میں سے 104 تصدیق شدہ اور 1051 مشتبہ اموات ہیں۔

اسی 24 گھنٹے کے دوران خسرہ کے 955 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن سے مشتبہ کیسز کا مجموعی ریکارڈ 203,848 ہو گیا ہے۔ مزید 131 کیسز کی لیبارٹری میں تصدیق ہوئی، جس کے بعد تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 22,328 تک جا پہنچی۔ تازہ ترین 8 اموات میں سے پانچ ڈھاکہ ڈویژن سے رپورٹ ہوئیں، جو اس وقت وبا کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔

15 مارچ کے بعد سے ملک بھر میں خسرہ کے شبے میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد مریض اسپتالوں میں داخل کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 73 ہزار صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیسز کی اصل تعداد سرکاری ریکارڈ سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے مریض اسپتال نہیں پہنچتے۔

یہ وبا کیوں اس قدر بے قابو ہوئی؟ عوامی صحت کے ماہرین اس کا ذمہ دار ویکسینیشن کے نظام میں پیدا ہونے والے خلل کو ٹھہرا رہے ہیں۔ کووڈ-19 کے دیرپا اثرات، منصوبہ بند بڑے پیمانے کی ویکسینیشن مہموں میں تاخیر اور سیاسی ہلچل کے دوران حفاظتی ٹیکہ کاری کا سست پڑ جانا — ان سب نے مل کر لاکھوں ایسے بچے چھوڑ دیے جنہیں خسرے سے بچاؤ کی دو خوراکیں مکمل نہیں لگ سکیں۔ خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی معیار کے تحت دو خوراکوں کی کم از کم 95 فیصد کوریج ضروری ہوتی ہے، اور بنگلہ دیش حالیہ برسوں میں یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا۔

DGHS کے سابق ڈائریکٹر ڈیزیز کنٹرول بی-نذیر احمد کے مطابق، اپریل میں یونیسیف کے ذریعے ویکسین کی خریداری بحال ہونے اور ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع ہونے کے باوجود وبا کی رفتار تیز ہے۔ “وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے جلد قابو پانا آسان نہیں،” انہوں نے ڈیلی اسٹار کو بتایا۔ ماہرِ صحت مشتوق حسین کا کہنا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد بچوں کو مناسب قوتِ مدافعت پیدا ہونے میں عموماً تین سے چار ہفتے لگتے ہیں، “اس لیے انفیکشنز، اسپتال میں داخلے اور اموات کی موجودہ لہر کم از کم مزید ایک ماہ جاری رہ سکتی ہے۔”

بنگلہ دیش کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے تعاون سے چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کو نشانہ بنا کر ہنگامی مہم شروع کی ہے، جسے بتدریج پورے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے صورتِ حال کو قومی سطح کا ہائی رسک بحران قرار دے رکھا ہے، اور ایک بین الاقوامی advocacy گروپ نے اسے بنگلہ دیش کی حالیہ تاریخ کے بدترین عوامی صحتی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے — وہ بھی ایسی بیماری کی وجہ سے جو ویکسین سے مکمل طور پر قابلِ بچاؤ ہے۔

یہ کہانی پاکستان کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔ ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان ہوائی روابط اور علاقائی نقل و حمل کا حجم کوئی راز نہیں، مگر اصل سبق کہیں گہرا ہے: معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کا نظام جب سست پڑتا ہے، تو ہنگامی مہمات اس خلا کو پُر نہیں کر پاتیں۔ پاکستان کا اپنا توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ کاری (EPI) بھی متعدد بار عارضی تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ خسرے جیسی بیماری، جس کے خلاف دہائیوں سے مؤثر ویکسین موجود ہے، اگر ایک سال میں گیارہ سو سے زائد جانیں لے سکتی ہے، تو سوال صرف بنگلہ دیش کا نہیں — یہ ہر اس ملک کا ہے جہاں ویکسین کی کوریج میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ بچاؤ کا نسخہ نیا نہیں، بس اس پر عمل مسلسل ہونا چاہیے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *