Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

اوکیناوا میں خاتون کے قتل کے الزام میں امریکی میرین گرفتار — جزیرے بھر میں فوجی سرگرمیاں 48 گھنٹوں کے لیے معطل

اوکیناوا کے امریکی فوجی اڈے فوٹنما پر ہیلی کاپٹر کے قریب کھڑے امریکی میرینز کے اہلکار

جاپان کے جنوبی جزیرے اوکیناوا میں امریکی میرین کور کے ایک اہلکار کو مقامی خاتون کے قتل اور لوٹ مار کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے — اور ردعمل میں جزیرے پر تعینات تمام امریکی فوجیوں کو اگلے دو دن تک اڈوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔

اوکیناوا پولیس کے مطابق 39 سالہ اینا یاگی نہا شہر کے ایک ہوٹل کے کمرے میں بے ہوش حالت میں پائی گئیں اور جائے وقوعہ پر ہی ان کی موت کا اعلان ہوا۔ ابتدائی جانچ کے مطابق ان کی موت گلا دبانے سے ہوئی۔ پولیس نے اتوار کو امریکی میرین لانس کارپورل ڈیون جیکب بیلارڈ (20) کو قتل اور ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کیا، جو تھرڈ میرین ایکسپڈیشنری فورس میں تعینات اور فوٹنما ایئر اسٹیشن سے منسلک تھا۔ پیر کو اسے نہا کے پراسیکیوٹر دفتر کے حوالے کر دیا گیا، اور وہ فی الحال جاپانی حکام کی تحویل میں ہے۔

واقعے کے بعد امریکی فوج نے اوکیناوا بھر میں آپریشنل پاز کا اعلان کیا ہے۔ اوکیناوا ایریا کوآرڈینیٹر اور تھرڈ ایم ای ایف کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن کے حکم کے مطابق بدھ کی دوپہر سے جمعے کی دوپہر تک تمام فوجی سرگرمیاں رک جائیں گی، اڈوں سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہوگی اور شراب نوشی پر اندر اور باہر دونوں جگہ مکمل ممانعت رہے گی۔ اس 48 گھنٹے کے وقفے کے دوران اہلکاروں کو نظم و ضبط، معیارات اور مقامی آبادی کے ساتھ رویے پر خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس کے بعد 30 روزہ “عکاسی کی مدت” شروع ہوگی، جس دوران اڈوں کے اندر رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

اپنے خط میں واٹسن نے لکھا کہ “ہم اوکیناوا کے لوگوں کے ساتھ رہتے، کام کرتے اور ان سے میل جول رکھتے ہیں — ان کا گھر ہمارا گھر ہے۔ پڑوسیوں کے ساتھ ہماری ہر بات چیت یا تو وہ اعتماد بناتی ہے جو ہماری ٹیم کے لیے ناگزیر ہے یا اسے کمزور کرتی ہے۔ جب یہ اعتماد متاثر ہوتا ہے تو اس سے ہمارے اتحاد کی مضبوطی اور اس خطے کی سلامتی دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔”

جاپانی حکومت کا ردعمل بھی سخت آیا ہے۔ وزیر خارجہ توشیمیٹسو موتیگی نے امریکی سفیر جارج گلاس کو طلب کیا اور تحقیقات میں مکمل تعاون، فوجیوں میں سخت نظم و ضبط اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اوکیناوا کے گورنر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ فوجیوں میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی امریکی کوششیں “مکمل طور پر بے اثر” ثابت ہوئی ہیں۔ پیر کو ٹوکیو میں وزیراعظم کے دفتر کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اوکیناوا میں امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف سنگین جرائم کے الزامات کا سلسلہ برسوں سے چلتا آ رہا ہے، اور جزیرے پر امریکی فوجی اڈوں کی بھاری موجودگی کے خلاف مقامی آبادی کا احتجاج بھی پرانا ہے — یہیں امریکا کے بیرون ملک سب سے بڑے فوجی اڈے قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد ٹوکیو اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ معاملہ محض ایک جرائم کی واردات سے کہیں بڑا ہے — یہ امریکا اور جاپان کے دفاعی اتحاد کے سب سے حساس مقام کو ہلا رہا ہے۔ وزیراعظم سنائے تاکائیچی اوکیناوا میں جاپانی عسکری کردار کو مضبوط بنانے اور چین کو روکنے کے لیے امریکی فوج کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہاں ہیں۔ مگر جزیرے کی سڑکوں پر پھیلتا ہوا عوامی غصہ اور فوجیوں کو اڈوں میں قید رکھنے کی مجبوری اسی حکمت عملی کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔

اوکیناوا میں تعینات امریکی فوجیوں کی یہ 48 گھنٹے کی قید جمعے کی دوپہر ختم ہو جائے گی — لیکن ٹوکیو اور واشنگٹن کے درمیان پیدا ہونے والا اعتماد کا یہ بحران شاید اس سے کہیں زیادہ دیر تک زندہ رہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *