واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اعلان اسی دن سامنے آیا جب امن کا نوبیل انعام 2026 عدالت کی سابق جج، جنوبی افریقہ کی نیوی پلے کے نام ہوا۔
پابندیوں کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ روبیو نے کہا: “صدر ٹرمپ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکیوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی لیے آج امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ ہم اس باغی عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائیں گے، اس کے وسائل کاٹ دیں گے اور اس کے خلاف کام کرنے کی اس کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے۔”
نئی پابندیوں کے تحت امریکی دائرہ اختیار میں عدالت کے کسی بھی اثاثے کو منجمد کیا جائے گا۔ وہ امریکی کمپنیاں اور افراد جو عدالت کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، انہیں یہ کاروبار سمیٹنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ عملی طور پر یہ عدالت کے ساتھ ہر قسم کے مالی لین دین پر پابندی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی عدالت سے دشمنی نئی نہیں۔ اس سے پہلے بھی عدالت کے پراسیکیوٹرز اور ججوں پر انفرادی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ لیکن جمعے کا قدم اس سے کہیں آگے بڑھ گیا — اب نشانے پر کوئی فرد نہیں، پورا ادارہ ہے، اور وہ کمپنیاں بھی جو عدالت کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔
واشنگٹن کا غصہ دو وجوہ سے پرانا ہے: پہلا، عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ؛ دوسرا، افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی ماضی میں کی گئی تحقیقات، جو بعد میں بند کر دی گئی تھیں۔ روبیو نے اپنے پیغام میں عدالت کو “جعلی آئی سی سی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور امریکی عوام اس کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں۔
دوسری طرف نوبیل کمیٹی نے اپنے حوالے میں واضح پیغام دیا تھا۔ کمیٹی کے مطابق نیوی پلے کو “بین الاقوامی فوجداری انصاف” کے شعبے میں کام پر اعزاز دیا گیا، اور یہ فیصلہ اس وقت ایک “یاد دہانی” ہے جب “بین الاقوامی قانون کے جج اور ادارے سیاسی حملوں کی زد میں ہیں۔”
پچاسی سالہ نیوی پلے جنوبی افریقہ کی قانون دان ہیں۔ وہ 2003 سے 2008 تک آئی سی سی کے اپیل چیمبر کی جج رہیں، روانڈا نسل کشی ٹربیونل کی سربراہی کی، اور اقوام متحدہ کے اس کمیشن کی قیادت کی جو غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگا چکا ہے۔
عدالت نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون اور عالمی نظم کی بنیادوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ عدالت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ “تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔” عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نازحط شمیم خان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ان پابندیوں کی مذمت کی جانی چاہیے۔
یہ تصادم اب امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ عدالت 2002 میں قائم ہوئی اور نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے۔ اس کے 125 رکن ممالک ہیں، جن میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکا و ترکیہ کے سوا نیٹو کے تمام ارکان شامل ہیں۔ روبیو نے اپنے اعلان میں اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ “عدالت کو لگام دیں۔”
یہاں وقت سب سے بڑا سوال ہے۔ ٹرمپ برسوں سے امن کے نوبیل انعام کی خواہش کا کھلا اظہار کرتے آئے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اعلان کیا تھا کہ پاکستان نے ٹرمپ کو اس انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ کمیٹی نے انعام نیوی پلے کے نام کیا — اور چند گھنٹوں بعد واشنگٹن نے عدالت پر پابندیاں لگا دیں۔ بعض رپورٹس میں یہ اشارہ بھی ملا ہے کہ یہ اقدام نوبیل کے اعلان سے پہلے سے زیر غور تھا۔ وجہ جو بھی ہو، نتیجہ ایک ہی ہے: بین الاقوامی قانون کے سب سے بڑے ادارے اور اس کے سب سے طاقتور ناقد کے درمیان اب کھلی جنگ چھڑ چکی ہے، اور یورپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عدالت کے ساتھ کھڑا ہے یا واشنگٹن کے ساتھ۔

قارئین کے تبصرے (0)