Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

“امن چاہتے ہیں، آزادی نہیں چھوڑیں گے”: تائیوان کے صدر کا قومی دن پر چین کو دوٹوک پیغام

تائپے میں تائیوان کا صدارتی محل، جس کے سامنے صدر لائی چنگ تے نے 10 اکتوبر کو قومی دن کا خطاب کیا

اہم نکات

  • صدر لائی چنگ تے نے 10 اکتوبر کو تائپے میں قومی دن کی تقریب میں کہا: دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد اشتعال نہیں، جنگ کو روکنا ہے۔
  • حکومت نے 2027 کے لیے ریکارڈ 1.1 کھرب تائیوانی ڈالر (تقریباً 34.5 ارب امریکی ڈالر) دفاعی بجٹ مختص کیا ہے — جی ڈی پی کے تین فیصد سے زیادہ۔
  • چین لائی کو “علیحدگی پسند” قرار دیتا ہے اور ان کی مذاکرات کی پیشکشیں مسلسل ٹھکرا چکا ہے۔
  • یہ خطاب ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے ٹھیک پہلے آیا — پیغام واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے لیے ہے۔

تائپے کے صدارتی محل کے سامنے ہزاروں شہریوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کے اجتماع سے خطاب میں صدر لائی چنگ تے نے کہا کہ تائیوان “امن کو عزیز رکھتا ہے مگر اپنی آزادی سے دستبردار نہیں ہو گا۔” ان کے الفاظ میں: “ہم تبادلے کے لیے تیار ہیں، مگر ماتحتی قبول نہیں کریں گے۔” تقریر سے پہلے تائیوانی لڑاکا طیاروں اور تائیوان کے دیوہیکل جھنڈے اٹھائے دو چنوک ہیلی کاپٹروں نے دارالحکومت کے اوپر پرواز کی۔ یہ تقریب 1911 کی بغاوت کی 115ویں اور تائیوان میں براہِ راست صدارتی انتخاب کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، اور لائی کے اس خطاب کا عنوان تھا “تائیوان کا مستقبل: پہاڑی پر شہر، دنیا کا نمک اور روشنی”۔

لائی نے کہا کہ دفاع میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مقصد اشتعال نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہے: “اور ہم اپنے دفاع کو اس لیے مضبوط نہیں کر رہے کہ مذاکرات ترک کر دیں، بلکہ اس لیے کہ مذاکرات برابری اور وقار کی بنیاد پر ہوں۔” ان کا کہنا تھا کہ امن صرف خواہشوں پر قائم نہیں رہ سکتا، اور برداشت کو جارح کو مزید آگے بڑھنے کا بہانہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ چین نے ان پر “علیحدگی پسند” کا لیبل لگا رکھا ہے اور ان کی بات چیت کی پیشکشیں مسترد کر چکا ہے؛ بیجنگ کے تائیوان امور کے دفتر نے اس تقریر پر فوری کوئی ردعمل نہیں دیا۔

دو کروڑ تیس لاکھ آبادی والا تائیوان چین کے اس دعوے کے سائے میں جیتا ہے کہ یہ جزیرہ اس کا حصہ ہے اور بیجنگ نے طاقت کے استعمال کا اختیار کبھی ترک نہیں کیا۔ لائی کے پہلے قومی دن کے خطاب کے فوراً بعد 2024 میں چین نے جزیرے کے گرد جنگی مشقیں کی تھیں، مگر گزشتہ برس ایسا نہیں ہوا۔ البتہ دسمبر کے آخر میں چین نے اس وقت مشقیں کیں جب واشنگٹن کے ساتھ 11 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کی خبر آئی — یہ تائیوان کے لیے امریکی ہتھیاروں کا اب تک کا سب سے بڑا پیکج تھا۔ اب تائیوان 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی منظوری کا منتظر ہے، جن میں امریکہ کا پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔

وقت اہم ہے۔ مئی میں بیجنگ میں شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت چین کے ساتھ سودے بازی کا پتہ ہو سکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں تشویش پھیلی تھی۔ واشنگٹن اور تائپے کے حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کے دور میں تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مگر لائی کا یہ خطاب دراصل اسی پالیسی کی آزمائش کا لمحہ ہے — وہ واشنگٹن کو بتا رہے ہیں کہ تائیوان اپنا حصہ ڈال رہا ہے، اور بیجنگ کو کہ طاقت کے ذریعے صورتِ حال بدلنے کی کوشش مہنگی پڑے گی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ لائی نے کیا کہا — یہ الفاظ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں — بلکہ یہ کہ بیجنگ اس کا جواب کیسے دے گا۔ 2024 کی مشقوں کے بعد چین نے پچھلے برس تحمل دکھایا تھا، مگر اس بار پس منظر مختلف ہے: امریکی صدر خود ہتھیاروں کی فروخت کو سودے بازی کا کارڈ بنا چکے ہیں، اور ٹرمپ-شی ملاقات کی میز پر تائیوان کا مستقبل بھی ہو سکتا ہے۔ لائی کی حکمتِ عملی واضح ہے — اپنی دفاعی سنجیدگی ثابت کر کے واشنگٹن کی حمایت پکی کرنا اور بیجنگ کو یہ باور کرانا کہ جارحیت کی قیمت جنگ ہو گی۔ آنے والے ہفتوں میں آبنائے تائیوان میں چینی فوجی سرگرمی ہی بتائے گی کہ یہ پیغام کہاں تک پہنچا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *