واشنگٹن — امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی شرائط واضح کر دی ہیں۔ رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وینس نے کہا کہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کی افزودگی صلاحیت میں “حقیقی اور معنی خیز” کمی کرنا ہوگی — محض یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔
وینس کا کہنا تھا کہ امریکی آپریشن کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا ہے، اور واشنگٹن اب ایسی ٹھوس یقین دہانیاں چاہتا ہے جن کی تصدیق ہو سکے۔ انھوں نے سوال اٹھایا: “اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو ساٹھ فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟ اگر آپ واقعی جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو انتہائی افزودہ ایندھن نہ بنائیں۔ یہ ایک بنیادی شرط ہے۔”
انٹرویو پیر کو الاسکا کے شہر فیئربینکس میں ایک انتخابی ریلی سے قبل رپورٹر جیکب بوگیج نے کیا۔ وینس کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کی سات ماہ طویل جنگ عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا چکی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی مسئلہ بن گئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے اعتراف کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور افزودگی مراکز تباہ کیے جا چکے ہیں، لیکن واشنگٹن یقینی بنائے گا کہ تہران ان تنصیبات کی تعمیر نو یا اپنی جوہری صلاحیت بحال نہ کر سکے۔ ان کے بقول، “بنیادی مقصد یہی ہے، اور باقی سب کچھ — بحری جہازوں کو ہراساں کرنا اور ہماری اس کا جواب — اس بڑے مقصد کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے: ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا۔”
شپنگ پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ایران تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے ذریعے واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ان کے مطابق یہ حکمت عملی الٹی پڑ رہی ہے۔ “جب بھی وہ عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، خود کو کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں،” وینس نے کہا۔
انٹرویو کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ وینس نے تسلیم کیا کہ واشنگٹن کو یقین نہیں کہ تہران میں فیصلے آخر کون کرتا ہے — یعنی مذاکرات کا فریق کون ہے، یہ خود امریکی حکام کے لیے بھی واضح نہیں۔ “ہم الفاظ کے بدلے الفاظ نہیں لیں گے،” انھوں نے واضح کیا، “ہم الفاظ کے بدلے عمل چاہتے ہیں۔”
پس منظر یہ ہے کہ ستمبر میں وینس کی ثالثی میں طے پایا عارضی امن معاہدہ جلد ہی ٹوٹ گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ بھی کیا، مگر ٹرمپ نے تہران کی تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی اور خبردار کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں تیز ہو سکتی ہیں۔
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب خطے میں بحری تجارت پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی ہفتے پاناما کے پرچم بردار تیل بردار جہاز “ایم ٹی آن پیس” کو آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا، جس سے بارہ ملاح زخمی ہوئے جن میں گیارہ بھارتی شہری تھے۔ بھارت نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
تجزیہ: کیوں یہ انٹرویو اہم ہے؟
وینس کے الفاظ دراصل ایک دھمکی اور دعوت دونوں ہیں۔ دھمکی یہ کہ افزودگی صلاحیت میں حقیقی کمی نہ ہوئی تو جنگ جاری رہے گی اور انتخابات کے بعد مزید تیز ہو سکتی ہے۔ دعوت یہ کہ واشنگٹن اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے — بشرطیکہ تہران ایسی ٹھوس کارروائی دکھائے جس کی نگرانی ہو سکے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایران میں “فیصلہ کون کرتا ہے” کے سوال پر خود امریکی نائب صدر کی بے یقینی مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اور جب تک آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے جاری ہیں، تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھتا رہے گا — جس کا اثر پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک پر پڑے گا۔ اگلے ہفتوں میں نومبر کے انتخابات واشنگٹن کی پالیسی کا رخ طے کریں گے: یا تو معاہدہ، یا پھر جنگ کا نیا اور خطرناک مرحلہ۔

قارئین کے تبصرے (0)