امریکا کی ریاست اوریگون کے شہر بینڈ میں ایک پرائمری اسکول پر فائرنگ میں 3 کم عمر بچے اور ان کی ایک خاتون استاد ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور ایک 16 سالہ نوجوان تھا جسے ایک عام شہری نے اسکول کے اندر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعہ جمعرات کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق پیش آیا — پاکستان میں اس وقت جمعہ کی رات کا پہلا پہر تھا۔
بینڈ پولیس کے سربراہ مائیک کرینٹز نے شام کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرنے والے بچوں کی عمریں 5، 8 اور 11 سال تھیں۔ ایک 7 سالہ بچہ اور 54 سالہ استاد شدید زخمی ہیں اور سینٹ چارلس میڈیکل سینٹر میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق دوپہر 12 بج کر 59 منٹ پر پہلی کال موصول ہوئی کہ اسکول کے قریب کھڑی ایک گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ ایک منٹ کے اندر اندر مزید کالز آنے لگیں کہ ایک مسلح شخص سلور ریل ایلیمنٹری اسکول میں داخل ہو کر فائرنگ کر رہا ہے۔ پولیس دو بج کر 2 منٹ پر اسکول پہنچی تو چند سیکنڈ بعد ہی ریڈیو پر اطلاع آئی کہ ملزم مردہ پڑا ہے۔
پولیس چیف کے مطابق حملہ آور بینڈ کا ہی 16 سالہ رہائشی تھا، جس کے پاس لمبی رائفل تھی۔ وہ بند دروازوں پر فائرنگ کر کے اسکول میں داخل ہوا۔ ایک عام شہری نے اسے اسکول کی طرف آتے دیکھا اور اس کے پیچھے اندر جا پہنچا — اندر مقابلہ ہوا اور اس شہری نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کرینٹز نے کہا کہ اس شخص کی مداخلت نے مزید جانی نقصان روکا۔ تاہم نہ حملہ آور کا نام بتایا گیا ہے، نہ اس شہری کا، اور نہ ہی حملے کی وجہ معلوم ہو سکی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ نوجوان کا اسکول سے کوئی تعلق تھا یا وہ وہاں کسی کو جانتا تھا۔
سلور ریل ایلیمنٹری اسکول کنڈرگارٹن سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کا اسکول ہے — عمر کا دائرہ تقریباً 5 سے 11 سال، تقریباً 450 طلبہ اور 40 عملہ۔ فائرنگ کے بعد اسکول کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا، بچوں کو کلاس بہ کلاس نکالا گیا اور بسوں میں جرنی چرچ لے جایا گیا جہاں والدین اپنے بچوں سے ملے۔ بینڈ-لا پائن اسکول ڈسٹرکٹ نے جمعے کو اپنے تمام اسکولوں میں کلاسیں، سرگرمیاں اور کھیل مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
سانحے کے بعد جمعرات کی شام ڈریک پارک میں چراغوں کی روشنی میں سوگ کی مجلس ہوئی، جبکہ بینڈ سنٹرل لائبریری میں متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی مشیر موجود ہیں۔ میئر میلانی کیبلر نے کہا کہ “اس نقصان کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔” گورنر ٹینا کوٹیک نے حملہ آور کو روکنے والے شخص کی جرات کو سراہا، جبکہ اسکول ڈسٹرکٹ کے سپرنٹنڈنٹ اسٹیون کک نے اساتذہ اور عملے کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی کانگریس کی رکن جینل بائنم نے واقعے کے بعد اپنی انتخابی مہم معطل کر دی۔ انہوں نے کہا: “وہ ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کو گولیوں سے چھید رہے ہیں۔ ہمیں خوف میں جینے پر مجبور کر رہے ہیں۔” ایف بی آئی کی پورٹ لینڈ ٹیم اور اے ٹی ایف کے ایجنٹ تحقیقات میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں، اور حملہ آور کے ہتھیار کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ امریکا میں اسکولوں پر فائرنگ کے اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں ہر بار وہی سوال اٹھتا ہے — کہ حملہ آور تک اسلحہ کیسے پہنچا۔ اس کیس میں ایک اور پہلو خاص ہے: زیادہ تر اسکول فائرنگ میں فائرنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک پولیس اسکول میں داخل نہ ہو، مگر بینڈ میں حملہ آور پہلی کال کے چند منٹ کے اندر مردہ تھا۔ تحقیقات کا اصل مرکز اب یہی سوال ہے کہ اسے گولی کس نے ماری — پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک عام شہری تھا۔ اس جواب سے طے ہو گا کہ بینڈ کی یہ رات امریکی پولیس کے تیز ردعمل کی مثال بنے گی یا اس قومی بحث کا حصہ کہ عام شہریوں کے ہاتھوں میں اسلحہ جرم روکتا ہے یا خطرہ بڑھاتا ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے یہ خبر ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے: اسی ہفتے پشاور کے اسکول سانحے میں درجنوں بچے جان سے گئے۔ دو مختلف ممالک، دو بالکل مختلف وجوہات — مگر ایک ہی سوال: بچوں کے لیے اسکول کتنے محفوظ ہیں؟

قارئین کے تبصرے (0)