Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

الوداع میسی: ارجنٹائن کی شرٹ میں آخری ٹینگو — بینن کو 3-0 سے شکست، 21 سالہ سفر تمام

لیونل میسی ارجنٹائن کی شرٹ میں 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے میچ میں

بیونس آئرس کے ایسٹاڈیو مونومنٹل میں منگل کی رات پچاسی ہزار تماشائی صرف ایک میچ دیکھنے نہیں آئے تھے — وہ ایک دور کی رخصت لینے آئے تھے۔ لیونل میسی، 39 سال، ارجنٹائن کی شرٹ میں 208 ویں اور آخری بار میدان میں اترے، اور جن لوگوں نے انہیں ایک لڑکے سے عالمی شہرت کی علامت بنتے دیکھا تھا، انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ الوداع خالی ہاتھ نہیں ہوگا۔ ارجنٹائن نے دوستانہ میچ میں بینن کو 3-0 سے ہرا دیا، مگر اسکور بورڈ اس رات کی کہانی کی صرف ایک سطر تھی۔میچ کا آغاز بھی جذبات سے بھرا تھا۔ بس اسٹیڈیم کی طرف بڑھ رہی تھی کہ ہزاروں مداح سڑکوں پر جمع ہو گئے؛ گاڑی کے اندر میسی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ میدان میں اترتے وقت وہ اپنے تینوں بچوں کے ساتھ تھے، اور اوپر وی آئی پی باکس سے ان کی اہلیہ انٹونیلا روکوزو اور والدہ سیلیا کوچیتینی ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ کک آف سے چند لمحے پہلے میدان میں ارجنٹائن کی ایک دیوہیکل شرٹ بچھائی گئی جس پر لفظ “Gracias” یعنی “شکریہ” لکھا تھا، اور پچاسی ہزار آوازوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔دوسرے ہاف میں میسی نے دکھایا کہ جادو عمر سے بڑا ہوتا ہے۔ اٹھتالیسویں منٹ میں ان کا کراس ان کے پرانے ساتھی نیکولاس اوٹامنڈی کے سر تک پہنچا اور گیند جال میں جا بسی — یہ اوٹامنڈی کا بھی ارجنٹائن کی شرٹ میں آخری میچ تھا۔ اکسٹھویں منٹ میں میسی نے نیکو پاز کو ایسا پاس دیا کہ اسکور 2-0 ہو گیا؛ پاز وہی نوجوان ہیں جنھیں کئی حلقے میسی کے جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اکہتر ویں منٹ میں ارجنٹائن کو پنالٹی ملی، اور میسی نے گیند کو دائیں جانب ٹاپ کارنر میں مار کر میچ 3-0 کر دیا — یہ ان کا 126 واں بین الاقوامی گول تھا، اور دونوں ریکارڈ — سب سے زیادہ گول اور سب سے زیادہ میچز — انہی کے نام رہے۔میچ کے بعد روشنیاں مدھم ہوئیں اور میسی مائیکروفون کے سامنے آئے۔ آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، مگر آواز پُرعزم تھی: “میں آپ سب کا صرف شکریہ ادا کر سکتا ہوں۔ بیس سال سے زیادہ اس شرٹ کا دفاع کرنا میرے لیے بہت بڑا فخر رہا ہے۔ ہم نے کبھی لڑنا نہیں چھوڑا، کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ارجنٹائن کے لیے کھیلنا سب سے خوبصورت چیز ہے۔” پھر انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا: “آپ لوگوں نے میرے تمام خواب پورے کر دیے — ورلڈ کپ، کوپا امریکا، فائنیلیسیما۔ میں جنگجوؤں میں گھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سب کی کمی محسوس ہوگی۔” آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ جگہ چھوڑنا نہیں چاہتے، یہ میدان چھوڑنا نہیں چاہتے: “میں آپ سب سے پیار کرتا ہوں۔ مجھے ارجنٹائن ہونے پر فخر ہے۔”یہ رات محض ایک دوستانہ میچ کی وداعی نہیں تھی۔ میسی نے اگست میں بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین سے ایک گول کی شکست کے کچھ ہفتوں بعد۔ اکیس سال میں انہوں نے 2022 کا ورلڈ کپ، 2021 اور 2024 کے کوپا امریکا ٹائٹل، 2008 کا اولمپک سونے کا تمغہ اور لا فائنیلیسیما جیتی۔ ارجنٹائن فٹبال فیڈریشن نے اس میچ کو “دی لاسٹ ٹینگو” کا نام دیا تھا، اور آخری سیٹی کے بعد آسمان میں ڈرون شو نے ورلڈ کپ اٹھائے میسی کی تصویر بنا کر تقریب کو مکمل کیا۔کوچ لیونل اسکالونی نے کہا ہے کہ “میسی نے وہ کچھ چھوڑا ہے جس کی مثال نہیں۔ ہمیں کھیلتے رہنا ہے، مگر میدان میں ان کا احساس منفرد ہے۔ میں نے کبھی کسی کو وہ محسوس کرواتے نہیں دیکھا جو وہ کرتے ہیں۔” اسکالونی کو یقین ہے کہ ارجنٹائن کی ٹیم بلند سطح پر رہے گی — گزشتہ ہفتے میسی کے بغیر بولیویا کو 4-0 اور برکینا فاسو کو 7-0 سے ہرا کر ٹیم نے اس کا اشارہ بھی دے دیا تھا۔یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے: میسی محض ایک کھلاڑی نہیں تھے، وہ ارجنٹائن کی قومی شناخت کا حصہ تھے — معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے برسوں میں ملک کی عظمت کی یاد دہانی۔ ان کا جانا ارجنٹائن کے لیے ڈیگو میراڈونا کے بعد دوسرا بڑا خلا ہے، اور دنیا بھر کے اربوں مداحوں کے لیے اس بات کا ثبوت کہ عظیم کھلاڑی بھی رخصت ہوتے ہیں، مگر ان کی کہانیاں رہ جاتی ہیں۔ اگلا سوال اب ارجنٹائن کے سامنے ہے: میسی کے بعد بھی عالمی اعلیٰ درجے پر قائم رہنا — اور اس رات کے ردعمل سے لگتا ہے کہ ملک اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *