یمن کی بارہ سالہ خانہ جنگی میں سوموار کو اچانک بڑا موڑ آیا، جب سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی “آپریشن فجر یمن” شروع کر دی۔ سرکاری بیانات کے مطابق، افواج نے بحیرہ احمر کی اہم آبنائے باب المندب کو “محفوظ” بنا لیا ہے اور ساحلی شہر موخا پر قبضہ کر لیا ہے — حالانکہ ان دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی ہونا باقی ہے۔
یمنی فوج کے مطابق، “نیشنل شیلڈ”، “جائنٹس بریگیڈز” اور “تہامہ مزاحمت” کے دستوں نے سعودی فضائی حملوں کی مدد سے سوموار کی سہ پہر موخا پر قبضہ کیا۔ اس سے قبل انہوں نے دھوباب کے ہوائی اڈے — جو آبنائے سے پینتالیس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے — پر قبضہ کیا اور دھوباب شہر میں حوثی جنگجوؤں کا محاصرہ کر لیا۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق، سینکڑوں حوثی جنگجو دھوباب میں گھرے ہوئے ہیں اور ان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی زیر قیادت اتحاد اس کارروائی میں سو جنگی طیاروں کے ساتھ یمنی افواج کو چوبیس گھنٹے فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان کے بقول، اب تک حوثیوں کے تین سو چوبیس “اعلیٰ اہمیت کے” اہداف تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اتحاد نے پیر کی رات یمن کی بحیرہ احمر گورنری حدیدہ میں بحری کارروائی کا بھی اعلان کیا۔
حوثیوں کے زیر کنٹرول دارالحکومت صنعا بھی نشانہ بنا۔ حوثیوں کے ترجمان چینل المسیرہ ٹی وی نے صنعا پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حوثی وزارت صحت کے مطابق، صنعا کے علاقے سنہان میں ایک فارم پر فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی جبکہ سوان میں ایک گاڑی پر حملے میں ایک لڑکی جاں بحق اور سات افراد زخمی ہوئے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ “صدارتی قیادتی کونسل” کے سربراہ رشاد العلیمی نے پیر کو اس آپریشن کا اعلان کیا۔ العلیمی کے بقول، آپریشن کا مقصد “ریاستی اداروں کی بحالی، دارالحکومت صنعا کی آزادی اور حوثی ملیشیا کی بغاوت کا خاتمہ” ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشیدگی کم کرنے کے تمام مواقع ختم ہو چکے ہیں۔
لیکن زمینی صورتحال کے بارے میں متضاد رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی سے بات کرنے والے یمنی حکومت اور فوج کے ہی نامعلوم ذرائع نے بتایا کہ سرکاری افواج موخا کے مضافات تک پہنچی ہیں، پورے شہر پر قبضہ نہیں ہوا۔ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے ان پیش قدمیوں کی تردید کی ہے اور حوثی حکام نے حکومتی دعوؤں کو “بے بنیاد” قرار دیا ہے۔ یعنی ابھی تک یہ دعوے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکے۔
جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے — جن میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا، رابغ میں آرامکو کی ریفائنری، ابھا کا ہوائی اڈا اور خمیس مشیط کا فوجی اڈہ شامل ہیں۔ سعودی عرب اور آرامکو نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، اور ان حملوں کی بھی آزاد تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ محاذ گزشتہ ماہ اس وقت گرم ہوا تھا جب حوثیوں نے انہی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس سے توانائی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔ باب المندب دنیا کے مصروف ترین تیل راستوں میں سے ایک ہے — اندازاً روزانہ لاکھوں بیرل تیل یہاں سے یورپ، امریکا اور ایشیا کو جاتا ہے۔ اگر یہ پیش قدمی قائم رہی تو بحیرہ احمر کے راستے سے گزرنے والے جہازوں پر حوثی دباؤ کم ہو سکتا ہے، حالانکہ حوثی اب بھی دیگر مقامات سے ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ: یہ صرف یمن کی خانہ جنگی کی خبر نہیں۔ خطے میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی ہے، اور یہ کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ ریاض اب صرف دفاعی حکمت عملی پر اکتفا نہیں کر رہا۔ صنعا پر بیک وقت دباؤ، ایک سو طیاروں کی فضائی مہم اور باب المندب کی بازیابی — یہ سب بتاتے ہیں کہ یمن کی جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس کے اثرات تیل کی قیمتوں سے لے کر خطے کی سیاست تک ہر جگہ محسوس ہوں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)