Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

آئی ایم ایف مذاکرات اختتامی مرحلے میں: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی امید — مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے

واشنگٹن میں آئی ایم ایف ہیڈکوارٹر کی عمارت

اس ہفتے اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری جائزہ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں ہیں۔ متعدد ذرائع کے مطابق پالیسی سطح کی بات چیت بدھ 7 اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن، جس کی سربراہی ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، اسلام آباد میں ہے اور دونوں فریق اب معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (MEFP) کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

پاکستان کو کتنی رقم ملے گی؟

اگر جائزہ کامیابی سے مکمل ہوا تو آئی ایم ایف عملہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی سفارش کرے گا۔ اس میں ایک ارب ڈالر 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت اور 20 کروڑ ڈالر ماحولیاتی لچک کے لیے بنائی گئی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت (RSF) کے تحت ہوں گے۔ ایک بات ذہن میں رکھیں: عملے کی سطح کا معاہدہ حتمی منظوری نہیں ہوتا — رقم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہی جاری ہوگی۔

آئی ایم ایف مطمئن کیوں نظر آ رہا ہے؟

اس بار سب سے بڑی خبر محصولات کی وصولی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا ستمبر کے دوران 3,043 ارب روپے جمع کیے — پہلی سہ ماہی کا ہدف پورا، بلکہ 27 ارب روپے زائد۔ اس کارکردگی پر آئی ایم ایف کو اعتماد ہے کہ پاکستان پورے سال کا 15.264 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف بغیر نئے ٹیکسوں کے پورا کر سکتا ہے۔ یعنی اس مالی سال میں منی بجٹ کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فنڈ نے اس بار کوئی نئی شرائط نہیں رکھیں، صرف پرانی کوتاہیوں کی تلافی کے لیے معمولی ایڈجسٹمنٹ پر بات ہوئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

پھر رکاوٹیں کیا ہیں؟

دو پرانے زخم اب بھی تازہ ہیں: بجلی اور گیس کے شعبوں کا گردشی قرضہ۔ بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون 2026 کے آخر تک 1.675 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے — جو طے شدہ حد سے تجاوز ہے۔ گیس کے شعبے کی صورتحال اس سے بھی بدتر ہے: تقریباً 3.6 کھرب روپے، جس میں 1.8 کھرب روپے اصل واجبات اور باقی سود اور تاخیری سرچارج ہیں۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو دی جانے والی کراس سبسڈی ختم کر کے جنوری 2027 سے مستحق گھرانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے ہدف بنا کر مدد دی جائے۔

سردیوں کی گیس بھی ایک سر درد ہے۔ دسمبر سے فروری کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو کم از کم 22 ایل این جی کارگو درکار ہیں، لیکن انرجی ٹاسک فورس کے مطابق سفارتی و لاجسٹک کوششوں سے صرف 10 سے 12 کارگو کا بندوبست ہو سکے گا — ہر کارگو کی قیمت تقریباً 10 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ منصوبہ وزیراعظم کی منظوری کا منتظر ہے۔

اس کا عام پاکستانی پر کیا اثر پڑے گا؟

فوری طور پر ایک اچھی خبر: منی بجٹ کا سایہ ہٹا ہے، یعنی نئے ٹیکسوں کا فوری خطرہ نہیں۔ لیکن درمیانی مدت میں بجلی کے بل متاثر ہو سکتے ہیں — کراس سبسڈی کے خاتمے اور BISP کے ذریعے ہدفی سبسڈی کا مطلب ہے کہ متوسط طبقے کے صارفین کو بجلی کی اصل قیمت کے قریب ادائیگی کرنا پڑے گی۔ گیس کی قلت سردیوں میں لوڈ مینجمنٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی مذاکرات کی پیش رفت پر بریفنگ دی جائے گی اور ان سے مشن کی ملاقات متوقع ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد معاملہ آئی ایم ایف بورڈ کے پاس جائے گا، جس کی منظوری پر 1.2 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔ لیکن یہ صرف ایک وقفہ ہے، حل نہیں۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 27 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تک بڑھا دیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ کا اندازہ 2.7 ارب ڈالر تھا — یعنی بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر اظہارِ دلچسپی بھی موصول ہوئے ہیں، اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی کارکردگی پر فنڈ کو بریفنگ دی گئی ہے۔

اصل تصویر یہ ہے: قسط مل جانا حکومت کے لیے سانس کا وقفہ ہوگا، مگر معیشت کے پرانے امراض — گردشی قرضہ، توانائی کی قلت، اور سبسڈی کا بوجھ — اپنی جگہ موجود ہیں۔ آئی ایم ایف کا اس بار نرم رویہ اچھی خبر ضرور ہے، لیکن اگلے جائزے تک اسلام آباد کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اصلاحات صرف کاغذوں میں نہیں، بلوں اور بیلنس شیٹ میں بھی نظر آتی ہیں۔ ورنہ ہر جائزہ ایک نئی مشکل شرط کے ساتھ آئے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *