Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا — 18 ستمبر سے لکی مروت آپریشن تک (ٹائم لائن)

کوہاٹ شہر اور گردونواح کا منظر (فائل تصویر)

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعے کے روز سیکیورٹی فورسز اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مشترکہ آپریشن میں 18 ستمبر کو کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ مارا گیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد کمانڈر زاہد گل کا تعلق گل بہادر گروپ سے تھا — اور وہ خود دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی حملے کی جگہ تک لے کر گیا تھا۔ یہ ہے اس کہانی کی مکمل ٹائم لائن۔

18 ستمبر 2026 — کوہاٹ پولیس لائنز پر حملہ

دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی اولڈ پولیس لائنز کمپاؤنڈ میں مسجد کے قریب پھٹی، جس کے بعد مسلح حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل ہو گئے اور پولیس تنصیبات پر دھاوا بول دیا۔ اس دو طرفہ حملے میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید ہوئے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں 8 حملہ آور مارے گئے۔

ستمبر کے آخری دنوں میں — ذمہ داری کا دعویٰ

عسکری اتحاد “اتحاد المجاہدین پاکستان” نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس اتحاد میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے — وہی گروہ جس سے زاہد گل وابستہ تھا۔

اگست 2026 (تقریباً دو ماہ قبل) — ناکام بنائی گئی کارروائی

سی ٹی ڈی کے مطابق زاہد گل اس سے پہلے نیو کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے لیے ایک خودکش بمبار لایا تھا، مگر سیکیورٹی فورسز نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔ یعنی پرانے کمپاؤنڈ پر حملہ اس کی پہلی کوشش نہیں تھی — یہ دوسری تھی، اور اس بار وہ کامیاب ہو گیا۔

پس منظر — بینک ڈکیتی اور بمباروں کا نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ زاہد گل کوہاٹ کے بیلی ٹانگ علاقے میں ایک بینک ڈکیتی کے وقت بھی موجود تھا، جہاں سے 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ یہ رقم بعد میں بنوں کے بکاخیل اور جانی خیل علاقوں میں سرگرم عسکری گروہوں میں تقسیم کر دی گئی۔ وہ کوہاٹ میں متعدد خودکش بمباروں کی آمد میں سہولت کار بھی رہا، اور کئی سنگین دہشت گردی کے مقدمات میں سیکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔

16 اکتوبر 2026 (جمعہ) — لکی مروت میں آپریشن

انٹیلی جنس اطلاعات پر سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے لکی مروت کے ولائی سگائی علاقے میں — جو بٹنی سب ڈویژن (سابقہ ایف آر لکی) سے متصل ہے — مشترکہ آپریشن کیا۔ کارروائی میں زاہد گل مارا گیا۔ سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق: «زاہد گل، اولڈ کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کا ماسٹر مائنڈ، آپریشن میں مارا گیا۔»

اگلے اہداف کیا تھے؟

سی ٹی ڈی کے مطابق زاہد گل کے اگلے منصوبوں میں کوہاٹ میں پاکستان ایئر فورس کی ایک تنصیب اور پولیس ٹریننگ اسکول شامل تھے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کے دیگر ارکان پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہیں۔

یہ کارروائی کیوں اہم ہے؟

یہ صرف ایک مطلوب دہشت گرد کی ہلاکت نہیں — یہ اس سیکیورٹی بیانیے کا پہلا عملی ثبوت ہے جس پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جس ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی، اس کا دفاع ایک سال میں 3,787 دہشت گرد حملوں کے اعداد و شمار پر کیا گیا تھا (ایمرجنسی کے نفاذ کی تفصیل)۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ رفتار برقرار رہے گی۔

زاہد گل کی ہلاکت ایک واضح کامیابی ضرور ہے، مگر گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین کا نیٹ ورک اب بھی موجود ہے۔ حراست میں موجود ارکان کے خلاف مقدمات کتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، اور آیا پی اے ایف تنصیب جیسے اگلے اہداف واقعی ناکام بنائے جا چکے ہیں — یہی طے کرے گا کہ جمعے کا آپریشن محض ایک خبر تھی، یا ایک پالیسی کی شروعات۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *