فرانس میں مہنگائی کے خلاف ہفتے کے روز قومی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا — طلبہ، ییلو ویسٹ تحریک کے کارکن، کسان اور ٹریڈ یونینز پہلی بار ایک ہی محاذ پر سڑکوں پر نکل آئے۔ پیرس کا مرکزی مارچ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے دو بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے) پلیس دے لا کلیشی سے شروع ہوا، مگر دوپہر سے پہلے ہی پولیس 166 افراد کو حراست میں لے چکی تھی، جن میں سے 100 صرف پیرس سے تھے۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق دوپہر تک 140 مظاہروں میں تقریباً 33 ہزار افراد شریک ہو چکے تھے، جبکہ ملک بھر میں تقریباً 500 مقامات پر کارروائیوں کا منصوبہ تھا۔ حکام کو توقع ہے کہ شام تک مجموعی شرکت ایک لاکھ 70 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
مارچ سے پہلے ہی پلیس دے لا ریپبلک پر پولیس نے آنسو گیس چلائی اور فسادات کے خدشے کے پیشِ نظر دو واٹر کینن گاڑیاں تیار کھڑی کر دیں۔ لیون میں تقریباً 100 مظاہرین کو آنسو گیس سے منتشر کیا گیا، مارسیلی میں کچرے کے ڈبے اور اسکوٹر جلائے گئے اور دکانوں کے شیشے توڑے گئے، جبکہ رین میں مظاہرین نے شاپنگ مال کے باہر جلتی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اسٹراسبورگ میں بھی طلبہ مظاہرین پر آنسو گیس چلائی گئی۔
غصے کی ایک جھلک پیرس میں اس وقت دیکھی گئی جب تقریباً 100 افراد نے نشریاتی ادارے سی نیوز کے دفتر پر دھاوا بول کر پارکنگ تک رسائی روک دی، گاڑیوں پر چیزیں پھینکیں اور کھڑکیاں توڑ دیں — پولیس نے 21 افراد کو گرفتار کیا۔ کئی شہروں میں “بلیک بلاک” شرپسندوں کے لوٹ مار اور پولیس پر حملوں کے منصوبوں کی اطلاع ملی، جس پر وزارتِ داخلہ نے “جان بوجھ کر تشدد” کی مذمت کی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو احتجاج کرنے والوں سے “لوگوں اور املاک کا احترام” کرنے کی اپیل کی تھی۔ احتجاج کا مرکزی نعرہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور گھریلو اخراجات کے خلاف ہے — وہی غصہ جس نے 2018 میں ییلو ویسٹ تحریک کو جنم دیا تھا۔ اس بار تحریک کے پرانے کارکن ہائی اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔
طلبہ کی تحریک تین ہفتوں سے جاری ہے — ناکافی اساتذہ، بھیڑ بھری کلاسوں اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف۔ 7 اکتوبر کو طلبہ کے احتجاج میں تقریباً 500 گرفتاریاں ہوئی تھیں، اور 6 اکتوبر کو اڑھائی لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے تھے۔ اب یہ تحریک کسانوں اور مزدور یونینوں کو ساتھ لیے ایک وسیع سماجی تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
رین میں 47 سالہ بڑھئی کرسٹوف — جو پرانی ییلو ویسٹ تحریک کے کارکن ہیں — نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ حالیہ ہفتوں میں نوجوانوں کے خلاف پولیس کے رویے پر مشتعل ہو کر آئے ہیں: “اب صورتحال یہ ہے کہ تشدد ہمارے اپنے بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔”
یہ کیوں اہم ہے؟
فرانس کے لیے یہ محض ایک احتجاجی دن نہیں — اگلے برس اپریل اور مئی میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں، اور یہ مظاہرے میکرون کے جانشین کے انتخاب سے پہلے ملک کے سماجی مزاج کا اشارہ ہیں۔ جب طلبہ، کسان، مزدور یونینز اور ییلو ویسٹ ایک ساتھ کھڑے ہوں تو حکومت کے لیے اسے نظرانداز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے بھی یہ خبر دور کی نہیں: یورپ میں ایندھن کی قیمتیں اور مہنگائی کا بحران براہِ راست عالمی تیل کی منڈی سے جڑا ہے — وہی منڈی جو پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)