Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ: پاکستان خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریبوں کا گھر

بازار میں پھلوں کی ریڑھی لگائے دکاندار

واشنگٹن سے آنے والی ایک تازہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں وہ سچ سامنے رکھ دیا ہے جو اکثر سرکاری اعداد و شمار کی چمک میں دب جاتا ہے۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریباً نصف افراد کا گھر ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان تین ڈالر روزانہ کی خطِ غربت پر پاکستان میں غربت کی شرح 6.4 فیصدی پوائنٹس بڑھ گئی، جبکہ 4.20 ڈالر روزانہ کی لکیر پر یہ اضافہ 3.2 فیصدی پوائنٹس رہا۔ بینک کا کہنا ہے کہ MENAAP دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے اوپر ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے — اور اس بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے۔

رپورٹ میں بینک کے الفاظ یہ ہیں:

“Menaap is the only region in the world in which poverty remains above pre-pandemic levels and continues to rise.”

اس تباہی کی وجوہات بھی رپورٹ میں گنوا دی گئی ہیں: کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی پر مشتمل معاشی بحران، اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کا وہ دور جس نے گھرانوں کی اصل آمدنی اور روزگار کے مواقع دونوں کو کمزور کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی نمو کی پیشگوئی بہتر دکھائی گئی ہے — مالی سال 25 میں 3.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 26 میں 3.7 فیصد اور مالی سال 27 میں 3.8 فیصد۔ مگر یہ نمو عام آدمی کی جیب تک نہیں پہنچ رہی۔ مہنگائی 2026 میں 7.1 فیصد سے بڑھ کر 2027 میں 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0.1 سے بڑھ کر 0.8 فیصد اور مالیاتی خسارہ 2.6 سے 3.5 فیصد تک جانے کا تخمینہ ہے۔ فی کس آمدنی میں اضافہ محض 2.1 سے 2.2 فیصد متوقع ہے۔

رپورٹ میں ایک اور وارننگ بھی ہے: 2026 کے آخر میں معمول سے شدید ال نینو موسمی پیٹرن خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، اور بدلتے مانسون کے باعث پاکستان اس کا براہِ راست شکار ہو سکتا ہے۔ 2024 میں خطے کی 14.3 فیصد آبادی تین ڈالر روزانہ سے کم پر گزارہ کر رہی تھی، جبکہ عالمی اوسط 10.4 فیصد تھی۔

اہم نکات:

48 فیصد — خطے کے انتہائی غریبوں میں پاکستان کا حصہ

6.4 فیصدی پوائنٹس — 2018-19 سے 2024-25 تک غربت میں اضافہ

3.8 فیصد — مالی سال 27 کے لیے نمو کی پیشگوئی، حکومت کے 4 فیصد ہدف سے کم

اس رپورٹ کی اہمیت کیا ہے؟

یہ رپورٹ دراصل اس سوال کا جواب ہے جو پاکستان کے ہر بازار میں کھڑا ہو کر پوچھا جاتا ہے: اگر معیشت سنبھل رہی ہے تو میری زندگی کیوں نہیں سنبھل رہی؟ عالمی بینک کے اعداد بتاتے ہیں کہ بحالی اور بہبود دو الگ چیزیں ہیں۔ نمو واپس آ سکتی ہے مگر روزگار، اجرت اور قوتِ خرید کے بغیر وہ صرف رپورٹوں میں اچھی لگتی ہے، دسترخوان پر نہیں۔

آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس ہونے والے ہیں، اور یہ رپورٹ ان اجلاسوں سے عین پہلے آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم واشنگٹن میں اس سوال کا سامنا کرے گی کہ استحکام کے دعووں کے باوجود غربت کیوں بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں ایک امید کی کرن بھی ہے — پاکستان کو ان معیشتوں میں شمار کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ مگر یہ موقع بھی تبھی کام آئے گا جب تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کے روزگار پر سنجیدہ سرمایہ کاری ہو۔

سوال اب یہ نہیں کہ شرحِ نمو کتنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نمو کس کی زندگی بدلے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *