برطانیہ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے جدید لڑاکا طیارے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے منگل کو سرکاری اعلان میں کہا کہ رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائیفون جنگی طیارے سعودی شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے “دفاعی کاؤنٹر ایئر” مشن اڑائیں گے — ان کا کام حوثی باغیوں کے ڈرونز اور میزائل سعودی فضائی حدود میں ہی روکنا ہوگا۔ لندن نے بار بار واضح کیا ہے کہ یہ طیارے یمن کے اندر جا کر حملے نہیں کریں گے؛ ان کا کردار خالصتاً دفاعی ہوگا۔
برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا: “ہمارے اتحادی سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملے انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔ خاص طور پر ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ حوثی کشیدگی بڑھانے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔ اسی لیے میں نے مزید عسکری مدد کی منظوری دی ہے — ٹائیفون ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی فضا کا دفاع کریں گے۔”
اعلان میں شامل کیا کیا ہے؟
ٹائیفون طیارے اس مدد کا سب سے نمایاں حصہ ہیں، مگر پیکج یہیں ختم نہیں ہوتا۔ برطانیہ سعودی عرب کے اندر دفاعی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے اپنا بڑا Atlas A400M نقل و حمل طیارہ بھی دے گا، اور برطانوی فوجی مشیر سعودی افسران کی مدد کریں گے۔ سعودی فضائی کارروائیوں کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے (ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ) کی جو سہولت برطانیہ پہلے سے دے رہا ہے، اس میں بھی توسیع کر دی گئی ہے — آر اے ایف کے Voyager ٹینکر ستمبر سے یہ کام کر رہے ہیں۔ دی ٹائمز کے مطابق یہ طیارے قطر سے اڑان بھریں گے۔
لندن کو یہ قدم ابھی کیوں اٹھانا پڑا؟
اس فیصلے کی اصل وجہ پچھلے ایک مہینے میں حوثی حملوں کی وہ لہر ہے جس نے سعودی عرب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے — یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی سرزمین پر سب سے مہلک حملہ تھا، اور ہوائی اڈہ آج تک بند پڑا ہے۔ پچھلے ہفتے حوثیوں نے پہلی بار آرامکو کے ظہران ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا، اور پیر کی رات ریاض پر ایک اور میزائل مار گرایا گیا۔ اسی خوف کا اثر ہے کہ سعودی عرب نے اپنی عالمی سرمایہ کاری کانفرنس “ڈاوس ان دی ڈیزرٹ” بھی 2027 تک ملتوی کر دی ہے — تفصیل ہم پہلے شائع کر چکے ہیں: حوثی حملوں کے خوف سے “ڈاوس ان دی ڈیزرٹ” ملتوی۔
“دفاعی کاؤنٹر ایئر” کا مطلب کیا ہے؟
یہ اصطلاح سننے میں تکنیکی لگتی ہے، مگر مطلب سادہ ہے۔ “دفاعی” کاؤنٹر ایئر میں لڑاکا طیارے اپنی یا اتحادی کی فضائی حدود میں گشت کرتے ہیں اور آنے والے میزائلوں، ڈرونز یا طیاروں کو آگے بڑھ کر روکتے ہیں۔ یعنی ٹائیفون پائلٹ یمن میں حوثی ٹھکانوں پر بمباری نہیں کریں گے؛ وہ سعودی آسمان کے محافظ ہوں گے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے صحافیوں کو یہی بتایا: “یہ طیارے سعودی عرب کی جانب آنے والے میزائل اور ڈرون روکیں گے اور یمن کے اندر جارحانہ حملے نہیں کریں گے۔” لندن اس حد بندی پر اس لیے زور دے رہا ہے تاکہ یہ مشن دفاع ہی کہلائے، کشیدگی میں اضافہ نہیں۔
صرف برطانیہ نہیں، سعودی عرب کو اتحادیوں کی تلاش ہے
برطانیہ اس میدان میں اکیلا نہیں اترا۔ فرانس نے بھی سعودی دفاع کے لیے اپنے فوجی اثاثے اور اہلکار بھیجنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امریکہ کے سو سے زائد فوجی مشیر پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ مصر کی پارلیمنٹ میں اس پر بحث جاری ہے کہ ضرورت پڑے تو مصر بھی سعودی عرب کی عسکری مدد کرے — ووٹنگ 26 اکتوبر تک ملتوی ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اسی لیے ریاض نے فرانس سے پاکستان تک اپنے اتحادیوں سے مدد مانگی ہے۔ ادھر حوثی بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔
پاکستان کے لیے اس پیش رفت کے کیا معنی ہیں؟
یہ کہانی پاکستان سے دو طرح جڑی ہے۔ ایک تو پاکستان کے فوجی دستے پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں — جب ریاض اپنے اتحادیوں سے مدد مانگتا ہے تو اسلام آباد اس فہرست میں نمایاں ناموں میں ہوتا ہے۔ دوسرا، سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی محنت مزدوری کرتے ہیں؛ وہاں کی سلامتی اور معیشت کی ہوا براہ راست ان خاندانوں کو لگتی ہے جو ہر ماہ ترسیلات کی راہ تکتے ہیں۔ اور تیسرا پہلو توانائی کا ہے: خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل مہنگا ہوتا ہے، اور تیل مہنگا ہو تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سے لے کر مہنگائی تک سب متاثر ہوتا ہے۔
اب نظر کس پر ہوگی؟
اب سب کی نظریں تین چیزوں پر ہوں گی: ٹائیفون اپنی پہلی دفاعی اڑانیں کب شروع کرتے ہیں اور کیا انہیں واقعتاً کسی حوثی میزائل یا ڈرون کو روکنا پڑتا ہے؛ حوثی اور ان کے حمایتی ایران اس تعیناتی پر کیا ردعمل دیتے ہیں؛ اور 26 اکتوبر کو مصر کی پارلیمنٹ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر انٹرسیپشن شروع ہو گئی تو برطانیہ عملی طور پر اس جنگ کا فریق بن جائے گا، چاہے لندن اسے دفاع ہی کہے۔
اس خبر کی انگریزی تفصیل یہاں پڑھیں: UK to Deploy RAF Typhoon Jets to Defend Saudi Arabia — Informopedia

قارئین کے تبصرے (0)