راولپنڈی — پاکستان نے منگل کو ٹرائی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں انگلینڈ کو 87 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 50 اوورز میں 9 وکٹوں پر 302 رنز بنائے، جس کے جواب میں انگلش ٹیم 38.4 اوورز میں 215 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
میچ کا ہیرو نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس رہے، جنہوں نے پہلے 58 گیندوں پر 59 رنز کی جاندار اننگز کھیلی اور پھر گیند بازی میں بھی کمال دکھا کر صرف 40 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ یہ کارکردگی انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دلانے کے لیے کافی تھی۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز تباہ کن رہا۔ فخر زمان پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے چلتے بنے اور اسکور بورڈ پر 81 رنز کے دوران چار اہم بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے۔ بابر اعظم 34، صائم ایوب 8 اور سلمان آغا 16 رنز ہی بنا سکے۔ یہاں سے حسن نواز اور عرفات منہاس نے میچ کا رخ پلٹا۔
حسن نواز نے نمبر چھ پر آ کر 74 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز کھیلی جس میں پانچ چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ ان چار چھکوں کے ساتھ ہی انہوں نے گھر کی سرزمین پر انگلینڈ کے خلاف ایک ون ڈے میں سب سے زیادہ چھکوں کا پاکستانی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا — یہ ریکارڈ اس سے پہلے عبد الرزاق کے پاس تھا جنہوں نے دو بار ایک اننگز میں تین چھکے لگائے تھے۔
حسن نواز اور سعد بیگ (35) کے درمیان پانچویں وکٹ پر 52 رنز کی شراکت قائم ہوئی، جبکہ عرفات منہاس کے ساتھ ان کی چھٹی وکٹ کی 74 رنز کی شراکت نے پاکستان کو مضبوط پوزیشن دلا دی۔ عرفات کے 59 رنز کے بعد فہیم اشرف نے 26 گیندوں پر 39 رنز کا تیز طرار کھیل پیش کیا۔ پاکستان نے آخری آٹھ اوورز میں 80 رنز بٹورے، جو ٹوٹل 302 تک پہنچنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کا آغاز شاندار رہا۔ ٹام بینٹن اور بین ڈکٹ کے درمیان 91 رنز کی اوپننگ شراکت نے پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا، مگر حارث رؤف نے ڈکٹ (45) کو آؤٹ کر کے اس شراکت کو توڑا۔ اس کے بعد عرفات منہاس نے میچ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا — پہلے بینٹن (57) کو، پھر کپتان ہیری بروک (5) کو پویلین بھیجا۔
جو روٹ (33) اور سیم کرن (27) نے ایک موقع پر مزاحمت دکھائی، مگر نسیم شاہ کی نیچی رہنے والی گیند پر روٹ کا بولڈ ہونا انگلینڈ کے لیے موت کی دستک ثابت ہوا۔ 165 پر چار سے انگلینڈ کی پوری ٹیم 215 رنز پر سمٹ گئی۔ عرفات کے 6 وکٹوں کے علاوہ حارث رؤف نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
یہ فتح کیوں اہم ہے؟
انگلینڈ ون ڈے رینکنگ کی نمبر ون ٹیم ہے، اور اکیس سال بعد پاکستان کی سرزمین پر اس کے خلاف اتنے بڑے مارجن سے جیت محض ایک میچ کی کامیابی نہیں۔ شاہین آفریدی کی قیادت میں یہ نوجوان ٹیم ابھی اپنی شناخت بنا رہی ہے، اور ایسے میں ایک ایسا آل راؤنڈر سامنے آنا جو بلے اور گیند دونوں سے میچ بدل سکتا ہے، پاکستان کی کرکٹ کے لیے طویل مدتی اثاثہ ہے۔ حسن نواز کے چھکوں کا ریکارڈ بھی اس بات کی گواہی ہے کہ یہ ٹیم دباؤ میں ڈرے بغیر کھیلنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
ٹرائی سیریز میں پاکستان کے اب دو میں سے دو میچ جیت لیے ہیں اور وہ 31 اکتوبر کو لاہور میں ہونے والے فائنل سے صرف ایک جیت کی دوری پر ہے۔ انگلینڈ کے لیے راستہ اب مشکل ہو گیا ہے — اسے 22 اکتوبر کو سری لنکا کو ہر قیمت پر ہرانا ہوگا۔ پاکستان اور انگلینڈ کا اگلا مقابلہ 25 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا، جس میں پاکستانی ٹیم بریسٹ کینسر آگاہی مہم کے تحت گلابی شرٹ پہن کر میدان میں اترے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ آج: 21 سال بعد پنڈی میں ون ڈے مقابلہ اور اتوار کو پاکستان ٹیم گلابی شرٹ میں میدان میں اترے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)