یورپ کی خلائی دوربین یوکلڈ، جسے کہکشاؤں کا نقشہ بنانے کے لیے خلا میں بھیجا گیا تھا، نے وہ کام کر دکھایا جس کا اس سے کسی کو توقع نہیں تھی: اس نے اپنا پہلا بالکل نیا دمکتا ستارہ دریافت کر لیا ہے۔ اسے سرکاری نام C/2026 S1 (Euclid) دیا گیا ہے، اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے 19 اکتوبر 2026 کو اس دریافت کا اعلان کیا۔
کہانی شروع ہوئی 16 سے 24 ستمبر 2026 کے درمیان لی گئی تصاویر سے۔ یوکلڈ اپنے “یوکلڈ ڈیپ فیلڈ نارتھ” سروے کے تحت آسمان کے ایک حصے کی گہری تصاویر لے رہی تھی، جب ہیلسنکی یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی طالب علم میکو پونٹینن کا تیار کردہ سافٹ ویئر حرکت کرنے والی چیزوں کی تلاش میں ان تصاویر کو اسکین کر رہا تھا۔ سافٹ ویئر نے ایک “لکیر” کو نشان زد کیا — کئی تصاویر میں پھیلی ہوئی ایک دھندلی دھاری، جو کسی تیز رفتار چیز کی علامت تھی۔
پونٹینن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اس چیز کی متوقع پوزیشن کا حساب لگایا اور اسے مزید تصاویر میں تلاش کیا۔ آخرکار وہ پانچ مختلف امیج سیٹوں میں پکڑا گیا، جن میں کل 16 ایکسپوژر شامل تھے۔ پھر وہ علامت ملی جو دمکتے ستارے کی شناخت ہے: اس چیز کے گرد دھول اور گیس کا ایک دھندلا بادل — جسے سائنسدان “کوما” کہتے ہیں۔ یہ وہی بادل ہے جو دمکتے ستارے کے برف کے سورج کے قریب پگھلنے سے بنتا ہے۔
“میں بہت خوش ہوا جب میرے سافٹ ویئر نے کئی تصاویر میں پھیلی ہوئی ایک لکیر کو نشان زد کیا — یہ کسی تیز رفتار چیز کا نتیجہ تھی،” پونٹینن نے کہا۔ “اس کی پوزیشن کی پیش گوئی کر کے میں اسے دوسری تصاویر میں تلاش کر سکا، اور یوں یہ پانچ امیج سیٹوں میں ملا۔ مزید معائنے سے اس کے گرد ایک دھندلا بادل نظر آیا، جو کسی فعال چیز کی علامت ہے، جیسے کوئی دمکتا ستارہ جو دھول اور گیس چھوڑ رہا ہو۔”
معروف دمکتے ستاروں اور سیارچوں کی فہرستوں میں اس کا کوئی مماثل نہیں ملا، تو پونٹینن نے مشاہدات انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین کے مائنر پلینٹ سینٹر کو رپورٹ کیے — یہ وہ عالمی ادارہ ہے جو نئی دریافتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ زمین پر موجود دیگر ماہرینِ فلکیات نے بھی اس کا پیچھا کیا، اور 8 اکتوبر کو اس کی باضابطہ تصدیق ایک نئے دمکتے ستارے کے طور پر ہو گئی۔
یہ دریافت اتنی خاص کیوں ہے؟
وجہ سیدھی ہے: یوکلڈ دمکتے ستارے ڈھونڈنے کے لیے بنی ہی نہیں۔ اس کا کام اربوں کہکشاؤں کی شکلیں اور حرکات ناپنا ہے تاکہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے پوشیدہ اثرات کو سمجھا جا سکے۔ یہ آسمان کے اس پٹی سے جان بوجھ کر دور رہتی ہے جہاں سیارچے اور دمکتے ستارے ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں کی دھول اس کی حساس گہری تصاویر کو خراب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی “ٹھہر کر دیکھو” والی حکمت عملی کے تحت وہ عام طور پر آسمان کے ہر حصے کو صرف ایک بار دیکھتی ہے — یعنی کسی مشتبہ چیز کو دوبارہ چیک کرنا آسان نہیں۔
اس کے باوجود یہ دمکتا ستارہ پکڑا گیا، کیونکہ اس کا مدار ہی انوکھا ہے۔ یہ سیاروں کی طرح ایک ہی سطح میں نہیں گھومتا، بلکہ نظامِ شمسی کے اوپر سے گزرتا ہے — سورج کے نقطۂ نظر سے بالکل “اوپر” کی طرف۔ اس کی وجہ سے یہ یوکلڈ کے دیکھنے کے میدان میں آ گیا۔ یہ زمین سے تقریباً 1.3 ارب کلومیٹر دور ہے — یعنی تقریباً مشتری اور زحل کے مداروں کے درمیان کا فاصلہ — اور اس کا ایک چکر مکمل ہونے میں ہزاروں سال لگیں گے۔
اگلا قدم: کومیٹ انٹرسیپٹر
یوکلڈ کے آرکائیو سائنسدان ڈاکٹر برونو الٹیری نے کہا: “یوکلڈ سے بہت کم دمکتے ستاروں کی دریافت متوقع ہے، اس لیے یہ ایک خوشگوار اتفاق تھا کہ اس دمکتے ستارے کے مدار اور ان دنوں میں یوکلڈ کے اسکین کا امتزاج اس چیز کو کئی تصاویر میں قید کر گیا۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ خاص دمکتا ستارہ ESA کے مستقبل کے “کومیٹ انٹرسیپٹر” مشن کے لیے موزوں امیدوار نہیں، مگر دریافت اور الرٹ کا یہ پورا عمل دونوں مشن ٹیموں کے مستقبل کے تعاون کے لیے ایک حقیقی ٹیسٹ کیس ہے۔
یوکلڈ کی پروجیکٹ سائنسدان ویلیریا پیٹورینو نے مزید کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نظامِ شمسی کی کمیونٹی کے لیے ایک پہلے سے نامعلوم دمکتا ستارہ دریافت ہوا، جس کی مزید تحقیقات اب زمینی دوربینیں کریں گی۔
دمکتے ستارے نظامِ شمسی کی پیدائش کے تقریباً 4.6 ارب سال پرانے برف اور دھول کے باقیات ہیں۔ چونکہ یہ اپنے بننے کے بعد سے تقریباً نہیں بدلے، ان کا مطالعہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ سیارے کن خام اجزا سے بنے — اور شاید یہ بھی کہ زمین پر پانی اور زندگی کے بنیادی اجزا کہاں سے آئے۔ اس سے پہلے خلا میں زندگی کی تلاش میں جاپان کے نینو-اے آئی ڈیوائس کی خبر نے بھی یہی سوال اٹھایا تھا کہ کائنات میں زندگی کے آثار کہاں ملیں گے۔ اور چین کے خلا میں بھیجے گئے اے آئی کمپیوٹر کے برعکس، یہ دریافت کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خوبصورت حادثہ ہے — ایک ایسی دوربین جو کہکشاؤں کو دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھ سے ایک مسافر بھی چھپ نہ سکا۔

قارئین کے تبصرے (0)