Monday, 26 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا 14 رکنی اسکواڈ: تین نئے چہرے، سلمان آغا کی واپسی، شان مسعود ڈراپ

کولمبو ٹیسٹ میں بابر اعظم بیٹنگ کرتے ہوئے — فائل تصویر

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف آئندہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ بابر اعظم ٹیم کی قیادت کریں گے، اور پہلا ٹیسٹ 9 نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہوگا۔

اسکواڈ میں تین نئے چہرے شامل ہیں: سمیر منہاس، محمد طہٰ اور محمد سلیمان پہلی بار ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔ ان کے ساتھ سلمان علی آغا اور بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کی واپسی ہوئی ہے۔ مکمل اسکواڈ یوں ہے: بابر اعظم (کپتان)، عبداللہ فضل، علی عثمان، عرفات منہاس، اعظم اویس، محمد عباس، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، محمد سلیمان، محمد طہٰ، رضا اللہ، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا، سمیر منہاس اور سعود شکیل۔

سلمان آغا کی واپسی خاصی معنی رکھتی ہے۔ وہ ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ٹیم سے فارغ کر دیا گیا تھا، اور انہیں سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے بھی باہر رکھا گیا تھا۔ لیکن ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے گزشتہ اتوار کو سری لنکا کے خلاف سنچری بنا کر اپنی فارم کا ثبوت دیا، اور اب ٹیسٹ ٹیم میں ان کی جگہ بحال ہو گئی ہے۔

دوسری طرف شان مسعود کو ڈراپ کر دیا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے گزشتہ ماہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں 95 رنز کی لڑاکا اننگز کھیلی تھی۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ سلیکٹرز صرف ایک اننگز پر نہیں، بلکہ طویل مدتی بیٹنگ ترکیب پر نظر رکھ رہے ہیں۔

پس منظر بھی اہم ہے۔ پاکستان کو انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی تھی، اور بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم اب ہوم گراؤنڈ پر واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔ سری لنکا کے خلاف سیریز اس بحالی کا پہلا امتحان ہوگی۔

تجزیہ: تین ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کو ایک ساتھ موقع دینا بہادرانہ فیصلہ ہے، لیکن اس میں خطرہ بھی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو پالش ہونے میں وقت لگتا ہے، اور راولپنڈی کی پچ پر سری لنکا کے تجربہ کار بولرز ان کا سخت امتحان لیں گے۔ سلمان آغا کی واپسی ٹیم کو تجربہ دیتی ہے، لیکن اصل سوال مڈل آرڈر کی مستقل مزاجی کا ہے — جو انگلینڈ میں ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہوئی تھی۔ اگر نئے کھلاڑی دباؤ میں بکھر گئے تو یہ سیریز تنقید کا نیا دروازہ کھول دے گی، اور اگر وہ کھڑے ہو گئے تو پاکستان کو اگلے دو سال کے لیے ایک نئی بیٹنگ کور مل جائے گی۔

9 نومبر کا راولپنڈی ٹیسٹ صرف ایک میچ نہیں ہوگا — یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں کس سمت جا رہا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *