Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

ریاض پر میزائل حملے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا: پاکستان میں پٹرول 400 روپے سے صرف ایک قدم دور

حیدرآباد میں پی ایس او پٹرول پمپ کی تصویر
تصویر: Farhan، CC BY 2.0، وکیمیڈیا کامنز

جمعرات 8 اکتوبر کو یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض پر بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے دو کو سعودی اتحاد نے فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اسی روز حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر کام کرنے والے عملے کو خبردار کیا کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں جنہیں ان کی فورسز نشانہ سمجھتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں: “تیل کی تمام تنصیبات کے ملازمین کو ان علاقوں سے نکل جانا چاہیے جو ہماری فورسز کے اہداف ہیں، تاکہ ان کی جانیں خطرے میں نہ پڑیں۔”

اس انتباہ اور حملوں کا اثر عالمی منڈی پر فوراً پڑا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 4.55 ڈالر یعنی 4.54 فیصد بڑھ کر 104.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی — ایک ہفتے سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 4 ڈالر اضافے کے ساتھ 92.28 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو 2 اکتوبر کے بعد بلند ترین قیمت ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک موقع پر برینٹ 105.46 ڈالر تک بھی گیا، یعنی ایک ہی دن میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اچھال۔

پاکستان کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ یہاں ایندھن کی قیمتیں اب براہِ راست عالمی منڈی سے جڑی ہوئی ہیں۔ حکومت نے جمعرات کی شب ہی 9 اکتوبر سے نافذ العمل نئی قیمتوں کا اعلان کیا: پٹرول 2.31 روپے مہنگا ہو کر 398.96 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 78 پیسے بڑھ کر 395.72 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ یوں پٹرول اب 400 روپے کی نفسیاتی حد سے صرف ایک روپیہ چار پیسے دور ہے۔

یاد رہے کہ 17 جولائی 2026 سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کی جاتی ہیں۔ اوگرا گزشتہ سات دنوں کی بین الاقوامی اوسط قیمت کی بنیاد پر ہر روز نئی قیمتیں طے کرتا ہے، اور جمعے کو اعلان کردہ قیمتیں ہفتے اور اتوار کو برقرار رہتی ہیں۔ اس نظام کا مطلب یہ ہے کہ 8 اکتوبر کو عالمی منڈی میں آنے والی تیزی اگلے چند دنوں میں پاکستانی پمپوں پر نظر آئے گی — سات روزہ اوسط میں یہ اضافہ رفتہ رفتہ شامل ہوتا جائے گا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں ریفائنڈ پٹرول کی اوسط قیمت 133.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 8 اکتوبر کو یہ 132.18 ڈالر تھی۔ دوسری جانب ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی — پٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس و ڈیوٹیز برقرار ہیں، یعنی تازہ اضافہ مکمل طور پر عالمی قیمتوں کا نتیجہ ہے۔

تجزیہ

اصل سوال اب یہ نہیں کہ قیمتیں بڑھیں گی یا نہیں — روزانہ نظام کے تحت یہ تقریباً طے ہے کہ 8 اکتوبر کی تیزی آنے والے دنوں میں پمپ کی قیمتوں میں جھلکے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تیزی کتنی دیر قائم رہتی ہے۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، یا تیل کی تنصیبات کو واقعی نقصان پہنچتا ہے، تو برینٹ 105 ڈالر سے بھی آگے جا سکتا ہے — اور پھر پاکستان میں پٹرول کا 400 روپے سے تجاوز کرنا صرف وقت کی بات ہوگی۔ اپریل میں، امریکا ایران جنگ کے عروج پر، پٹرول 458.41 روپے تک جا چکا ہے، اس لیے یہ حد ناممکن نہیں۔

لیکن اگر کشیدگی کم ہوتی ہے اور سپلائی بحال رہتی ہے تو قیمتیں اسی طرح روزانہ نیچے بھی آ سکتی ہیں — یہی روزانہ نظام کا دوسرا رخ ہے۔ صارفین کے لیے عملی نتیجہ ایک ہی ہے: آنے والے ہفتے میں ہر صبح پمپ کی قیمت چیک کرنا اب عادت بنا لینی چاہیے، کیونکہ ریاض کی خبر اب براہِ راست ان کی جیب سے جڑی ہوئی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *