Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

آئی ایم ایف ڈیل کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں 353 پوائنٹس کی گراوٹ — جمعے کو سرمایہ کار کیوں گھبرائے؟

اسٹاک مارکیٹ کی ٹریڈنگ اسکرین پر حصص کے اتار چڑھاؤ کا چارٹ

کراچی — پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا اختتام مندی پر ہوا۔ جمعے (9 اکتوبر) کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 352.63 پوائنٹس یعنی 0.21 فیصد کمی کے ساتھ ایک لاکھ 67 ہزار 89.28 پر بند ہوا، اور یوں پورے ہفتے میں انڈیکس تقریباً 0.7 فیصد گرا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ گراوٹ اس وقت آئی جب پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ طے کیا تھا، جس سے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت اور ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی لچک و پائیداری سہولت کے تحت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کا راستہ کھل سکتا ہے۔ عام طور پر ایسی خبر مارکیٹ کو سہارا دیتی ہے، مگر اس بار سرمایہ کاروں کا دھیان کہیں اور تھا۔

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق گراوٹ کی اصل وجوہات بین الاقوامی تھیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 103.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، امریکا ایران کشیدگی اور سعودی عرب و یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتے تصادم نے علاقائی صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔ اس کے ساتھ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی تازہ نیلامی میں شرحِ سود 26 سے 41 بیسز پوائنٹس بڑھ گئی، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں اضافے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ تجارتی خسارے کے بڑھنے کی فکر نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ٹریڈنگ فلور نوٹ کے مطابق جمعے کے سیشن میں 52 شیئرز میں اضافہ اور 45 میں کمی دیکھی گئی۔ انڈیکس کو سہارا دینے والوں میں ایفرٹ (0.82 فیصد اضافہ)، ٹی پی ایل آر ای ایف ون (7.65 فیصد اضافہ) اور اینگرو ہولڈنگز (0.27 فیصد اضافہ) نمایاں رہے، جبکہ بڑے بینکوں — ایچ بی ایل میں 1.37 فیصد، یو بی ایل میں 0.57 فیصد اور ایم سی بی میں 1.27 فیصد کمی — نے انڈیکس کو نیچے کھینچا۔ سیشن کے دوران انڈیکس ایک لاکھ 68 ہزار 134 کی بلند ترین اور ایک لاکھ 66 ہزار 837 کی کم ترین سطح کے درمیان گھومتا رہا۔

کرنسی مارکیٹ میں البتہ استحکام رہا۔ انٹربینک میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کے ساتھ 277.00 پر بند ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2 اکتوبر تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26.8 ارب ڈالر تھے۔ ستمبر میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ ہیں — معیشت کے لیے یہ ایک مضبوط سہارا ہے۔

سونے کی منڈی میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق جمعے کو فی تولہ سونا ایک ہزار ایک سو روپے مہنگا ہو کر چار لاکھ بیالیس ہزار چھتیس روپے کا ہو گیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 378,974 روپے رہی۔ عالمی منڈی میں سونا 11 ڈالر اضافے کے ساتھ 4,195 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔

یہاں ایک تضاد ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف معاہدہ معیشت کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے، مگر اسٹاک مارکیٹ روزمرہ کے خوف پر چلتی ہے۔ بانڈ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی شرحِ سود دراصل یہ پیغام دے رہی ہے کہ مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کا دباؤ ابھی ٹلا نہیں، اور جب تک جغرافیائی سیاسی صورتحال ٹھنڈی نہیں ہوتی، سرمایہ کار بڑی شرط لگانے سے گریز کریں گے۔ تکنیکی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے میں ایک لاکھ ستر ہزار کی سطح مزاحمت اور ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کی سطح سہارا بن سکتی ہے۔

آنے والا ہفتہ بتائے گا کہ سرمایہ کاروں کی یہ گھبراہٹ وقتی ہے یا پالیسی ریٹ کے اگلے فیصلے تک مارکیٹ اسی دباؤ میں رہے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *