خلائی سفر اب معمول بنتا جا رہا ہے — مگر ہر واپسی اپنے ساتھ ایک کہانی لاتی ہے۔ ناسا کے خلائی مشن کرو-12 کے چار خلاباز جمعرات 8 اکتوبر 2026 کو تقریباً آٹھ ماہ خلا میں گزارنے کے بعد بحفاظت زمین پر اتر گئے۔ ان کے سفر کی اہم کڑیاں ٹائم لائن کی صورت میں:
13 فروری 2026 — روانگی
اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ فلوریڈا کے کیپ کیناورل اسپیس فورس اسٹیشن سے عملے کو لے کر روانہ ہوا۔ ڈریگن کیپسول “فریڈم” میں سوار تھے: مشن کمانڈر جیسیکا میئر (ناسا)، پائلٹ جیک ہیتھاوے (ناسا)، مشن اسپیشلسٹ سوفی ایڈنوٹ (یورپی خلائی ایجنسی) اور مشن اسپیشلسٹ اینڈری فیڈیایف (روس کی خلائی ایجنسی روسکوسموس)۔ اگلے ہی روز کیپسول بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے جڑ گیا۔
18 اگست، 25 اگست اور یکم ستمبر 2026 — تاریخی چہل قدمی
مشن کے دوران سوفی ایڈنوٹ نے تین بار خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر خلائی چہل قدمی کی۔ اس طرح وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والی پہلی فرانسیسی خاتون خلاباز بن گئیں — ایک ایسا اعزاز جو اس سے پہلے کسی فرانسیسی خاتون کو نصیب نہیں ہوا تھا۔
یکم اکتوبر 2026 — نئی ٹیم کی آمد
کرو-13 کے چار خلاباز خلائی اسٹیشن پہنچے — کمانڈر جیسیکا واٹکنز، پائلٹ لوک ڈیلینی، کینیڈا کے جوشوا کٹرک اور روس کے سرگئی تیتیریاتنکوف۔ یہ ٹیم تقریباً چھ ماہ اسٹیشن پر رہے گی، جس کے بعد کرو-12 کے عملے کی روانگی کی راہ ہموار ہوئی۔
7 اکتوبر، صبح 8:05 (امریکی مشرقی وقت) — جدائی
ڈریگن کیپسول خلائی اسٹیشن کے ہارمونی ماڈیول سے الگ ہوا اور زمین کی طرف 27 گھنٹے سے زائد کا سفر شروع کیا۔
8 اکتوبر، صبح 10:46 — مدار سے نکلنے کا مرحلہ
کیپسول نے “ڈی آربٹ برن” مکمل کیا — یعنی مدار سے نکلنے کے لیے انجن چلائے گئے۔ 18 ہزار فٹ کی بلندی پر پہلے چھوٹے اور پھر بڑے پیراشوٹ کھلے۔
8 اکتوبر، صبح 11:34 (پاکستان میں رات 8:34) — سمندر میں لینڈنگ
کیپسول لاس اینجلس کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں بحفاظت اتر گیا۔ ناسا کی براہِ راست نشریات کے مطابق عملے کے چاروں ارکان خیریت سے تھے۔ اترتے ہی جیسیکا میئر نے کہا: “بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ناقابلِ فراموش مشن کے بعد زمین پر واپس آ کر ہم بہت خوش ہیں۔”
8 اکتوبر، لینڈنگ کے بعد — ریکوری
اسپیس ایکس کے بچاؤ جہاز “شینن” نے کیپسول کو اپنے عرشے پر اٹھایا۔ چاروں خلابازوں کو ایک ایک کر کے باہر نکالا گیا، جہاز پر ہی ان کا ابتدائی طبی معائنہ ہوا، پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے خشکی پر منتقل کیا گیا۔ وہاں سے وہ ہیوسٹن، ٹیکساس روانہ ہوں گے، جہاں ناسا کا خلاباز آپریشنز کا مرکز ہے۔
15 اکتوبر — پریس کانفرنس (متوقع)
ناسا کے مطابق چاروں خلاباز 15 اکتوبر کو ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں پریس کانفرنس میں اپنے مشن اور سائنسی کامیابیوں کی تفصیل بتائیں گے۔
مشن کی جھلکیاں
237 دن — یعنی تقریباً آٹھ ماہ — کے دوران عملے نے 10 کروڑ میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا اور درجنوں سائنسی تجربات کیے، جن میں نمونیا پیدا کرنے والے بیکٹیریا کا مطالعہ، خلا میں خون کے بہاؤ کی تحقیق، پودوں کی خودکار دیکھ بھال اور مستقبل کی خلائی فصلوں کے لیے نائٹروجن پیدا کرنے والے جرثوموں کے تجربات شامل ہیں۔ یہ اسپیس ایکس کے کمرشل کریو پروگرام کی 12ویں باقاعدہ پرواز تھی۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئیزک مین نے کہا کہ ہزاروں ماہرین کی مہارت کی بدولت یہ عملہ بحفاظت واپس آیا، اور اسی صلاحیت کو بار بار دہرانا انسان کو چاند اور مریخ تک لے جائے گا۔
یہ مشن کیوں اہم ہے؟
پہلی نظر میں یہ ایک معمول کی عملے کی تبدیلی لگتی ہے — اور یہی اس کی اصل خبر ہے۔ خلائی سفر اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں آٹھ ماہ کا مشن، چار ممالک کے خلاباز اور کروڑوں میل کا سفر بھی “روٹین آپریشن” کہلاتا ہے۔ دوسری اہم بات بین الاقوامی تعاون ہے: روس کے یوکرین پر حملے کے بعد زمین پر مغرب اور ماسکو کے تعلقات جس نہج پر ہیں، اس کے باوجود امریکی، یورپی اور روسی خلاباز ایک ہی کیپسول میں آج بھی ساتھ سفر کرتے ہیں — خلائی اسٹیشن شاید آخری ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں یہ تعاون زندہ ہے۔ تیسری بات وقت کی ہے: پچیس سال سے مسلسل آباد یہ اسٹیشن اب بڑھاپے کی طرف بڑھ رہا ہے اور 2030 کے آس پاس اسے مدار سے نکال کر سمندر میں گرائے جانے کا منصوبہ ہے۔ کرو-12 جیسے مشن اس آخری دہائی کی سائنسی وراثت ہیں۔ سوفی ایڈنوٹ کی چہل قدمی نے البتہ اس معمول میں ایک انسانی رنگ بھرا — فرانس کی پہلی خاتون کا خلا میں قدم رکھنا آنے والی نسلوں کے لیے ایک تصویر بن گیا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)