جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعے کو 2026 کا امن کا انعام جنوبی افریقہ کی نیوی پلے کے نام کیا تو دنیا نے ایک ایسے نام کو سراہا جسے عام لوگ کم جانتے ہیں، مگر بین الاقوامی انصاف کی تاریخ ان کے بغیر ادھوری ہے۔ 85 برس کی یہ خاتون چھ دہائیوں سے قانون کو طاقتوروں کے خلاف ڈھال بنائے ہوئے ہیں۔
نیوی پلے 1941 میں جنوبی افریقہ کے صوبے نٹال میں تامل نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہوئیں۔ یہ نسل پرستی (اپارتھائیڈ) کا دور تھا، جب قانون خود ظلم کا آلہ تھا۔ 1967 میں انہوں نے نٹال میں وکالت کا دفتر کھولا — وہ پہلی غیر سفید فام خاتون تھیں جنہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ اس وقت یہ محض پیشہ ورانہ کامیابی نہیں تھی، ایک سیاسی بیان تھا۔
انہوں نے جن مقدمات کی پیروی کی، وہ تاریخ بن گئے۔ نیلسن منڈیلا سمیت نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کے قیدیوں کا دفاع کیا، اور رابن آئی لینڈ کے قیدیوں کے حقوق کے لیے ایسی قانونی بنیادیں رکھیں جنہیں بعد میں بین الاقوامی قانون میں جگہ ملی۔ وہ وکیل تھیں جو عدالت میں کھڑی ہو کر ریاست سے سوال کرتی تھیں۔
نسل پرستی کے خاتمے کے بعد ان کا میدان وسیع ہوا۔ وہ روانڈا کے لیے بنے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی صدر رہیں — وہ عدالت جس نے نسل کشی کے مرتکبوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ بعد میں وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جج بنیں، اور 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر رہیں۔ اس عہدے پر انہوں نے طاقتور حکومتوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی قیمت بھی چکائی — مگر پیچھے نہیں ہٹیں۔
آج وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے مقدمے سے جڑی ہیں — یعنی 85 برس کی عمر میں بھی وہ اسی محاذ پر ہیں جہاں سے شروع کیا تھا: مظلوم کے حق میں قانون۔
نوبیل کمیٹی نے انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب بین الاقوامی قانون “زبردست دباؤ” میں ہے۔ اس سال انعام کے لیے 287 امیدوار تھے، اور کمیٹی نے ایک ایسی شخصیت کو چنا جس کی پوری زندگی اس دباؤ کے خلاف کھڑے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ انعام کی رقم ایک کروڑ بیس لاکھ سویڈش کرونر ہے، اور تقریب 10 دسمبر کو اوسلو میں ہوگی۔
نیوی پلے کی کہانی محض ایک انعام کی نہیں۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ قانون کب انصاف بنتا ہے — جب اسے چلانے والے خوف سے بڑے ہوں۔ چھ دہائیوں میں انہوں نے نسل پرست ریاست، جنگی مجرموں اور عالمی طاقتوں، تینوں کا سامنا کیا، اور ہر بار قانون کی کتاب اٹھا کر کھڑی ہوئیں۔ نوبیل کمیٹی نے دراصل اسی استقامت کو سلام کیا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)