Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

ایوا میری سینٹ: 102 سالہ ہالی وڈ لیجنڈ رخصت — “آن دی واٹر فرنٹ” سے آسکر تک کا سفر

ایوا میری سینٹ اور مارلن برانڈو فلم "آن دی واٹر فرنٹ" کے ایک منظر میں

لاس اینجلس: ہالی وڈ کی سنہری دور کی اداکارہ ایوا میری سینٹ منگل 6 اکتوبر کو 102 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے نمائندے جیف سینڈرسن نے تصدیق کی کہ وہ لاس اینجلس میں اپنے گھر میں قدرتی وجوہات سے، اہلِ خانہ کے درمیان، اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

ان کی موت کے ساتھ ہی ہالی وڈ کے سنہرے دور کا ایک اور باب بند ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے وہ سب سے عمر رسیدہ زندہ آسکر فاتح تھیں — یہ اعزاز اب 100 سالہ اداکارہ لی گرانٹ کے پاس چلا گیا ہے۔

ایک طویل فنکارانہ سفر — ٹائم لائن

  • 1924: 4 جولائی کو نیو جرسی کے شہر نیوارک میں پیدا ہوئیں۔
  • 1950 کی دہائی کا آغاز: براہِ راست ٹیلی وژن اور اسٹیج سے اداکاری کا آغاز کیا، جو اس دور میں اداکاروں کی تربیت کا اصل میدان تھا۔
  • 1954: فلمی دنیا میں قدم رکھا — “آن دی واٹر فرنٹ” میں مارلن برانڈو کے مقابل ایڈی ڈوئل کا کردار ادا کیا۔
  • 1955: اپنی پہلی ہی فلم پر بہترین معاون اداکارہ کا آسکر ایوارڈ جیتا — ایک ایسا کارنامہ جو بہت کم اداکاروں کے نصیب میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ ایوارڈ اس وقت وصول کیا جب وہ نو ماہ کی حاملہ تھیں۔
  • 1959: الفریڈ ہچکاک کی مشہور فلم “نارتھ بائی نارتھ ویسٹ” میں کیری گرانٹ کے مقابل ایو کینڈل کا کردار — ایک ایسا کردار جو آج بھی ہچکاک کی بہترین ہیروئنوں میں شمار ہوتا ہے۔
  • 1990: ٹیلی وژن ڈرامے “پیپل لائک اَس” پر ایمی ایوارڈ جیتا، جو ان کی سات دہائیوں پر محیط فنکارانہ زندگی کا ثبوت ہے۔
  • بعد کے کردار: “ایگزوڈس”، “سپرمین ریٹرنز” اور مقبول ٹی وی سیریز “مون لائٹنگ” سمیت درجنوں فلموں اور ڈراموں میں نظر آئیں۔

تجزیہ

ایوا میری سینٹ کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے شہرت کے عروج پر بھی اپنی نجی زندگی کو سنبھال کر رکھا۔ “آن دی واٹر فرنٹ” میں ان کا کردار — ایک ایسی لڑکی جو اپنے بھائی کے قتل کے خلاف آواز اٹھاتی ہے — اس دور کی فلموں میں خواتین کے کرداروں سے ہٹ کر تھا: کمزور نہیں، بلکہ اصولوں پر ڈٹی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ سات دہائیوں بعد بھی وہ کردار فلم اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

ہالی وڈ میں آج جب اداکارائیں چند سال میں آتی جاتی ہیں، سینٹ کا سات دہائیوں کا سفر ایک یاد دہانی ہے کہ اصل فنکارانہ ورثہ باکس آفس کے اعداد سے نہیں، کرداروں کی گہرائی سے بنتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *