پٹرولیم ڈویژن نے جمعرات کی شب ایندھن کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا، جو جمعے (9 اکتوبر) سے نافذ ہو گئیں۔ اس بار خبر اضافے کی ہے — پٹرول کی قیمت میں 2.31 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ 398.96 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے، یعنی 400 روپے سے صرف ایک روپیہ چار پیسے کم۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 78 پیسے مہنگا ہو کر 395.72 روپے فی لیٹر ہو گیا۔
اس اضافے کے بعد عام صارفین کے ذہن میں کئی سوالات ہیں۔ ان کے جوابات یہ ہیں:
قیمتیں کیوں بڑھیں؟
پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں اب بین الاقوامی منڈی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ گزشتہ سات دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی اوسط قیمت بڑھی — برینٹ کروڈ تقریباً 103.98 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 91.32 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اسی اوسط کی بنیاد پر اوگرا نے نئی قیمتیں تجویز کیں۔
روزانہ قیمتوں کا نظام کیا ہے؟
17 جولائی 2026 سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کی جاتی ہیں۔ اس سے پہلے ہفتہ وار اور اس سے پہلے پندرہ روزہ نظام تھا۔ نئے نظام میں اوگرا گزشتہ سات دنوں کی بین الاقوامی اوسط قیمت دیکھ کر روزانہ قیمتیں طے کرتا ہے۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس نظام کا مقصد قیمتوں کو عالمی منڈی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہے — یعنی قیمتیں اب ہر روز تھوڑی تھوڑی بدل سکتی ہیں، بجائے اس کے کہ پندرہ دن بعد ایک بڑا جھٹکا لگے۔
کیا ٹیکس بھی بڑھا ہے؟
نہیں۔ پٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر پر برقرار ہیں۔ یہ اضافہ مکمل طور پر عالمی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔
ستمبر میں اعلان کردہ ریلیف اسکیم کا کیا بنا؟
13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر کی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ مستفیدین کو فائدہ پہنچنا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ماہانہ 20 لیٹر تک ایندھن پر زیادہ سے زیادہ 2,000 روپے ماہانہ کی رعایت ملتی ہے۔ وہ اسکیم الگ ہے اور آج کے اضافے سے اس کا تعلق نہیں — ریلیف اہل صارفین کو ان کی رجسٹریشن کے مطابق ملتا رہے گا۔
اس سے پہلے قیمتیں کتنی اونچی گئی تھیں؟
اپریل میں پٹرول 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے — یہ وہ وقت تھا جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑی تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ قیمتیں اب بھی اس ریکارڈ سے نیچے ہیں، مگر 400 روپے کی نفسیاتی حد پٹرول کے لیے اب صرف ایک قدم کی دوری پر ہے۔
تجزیہ
روزانہ نظام کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے “بڑے جھٹکے” ختم ہو جاتے ہیں — قیمتیں آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ مگر عام صارف کے لیے یہ نظام ایک نئی الجھن بھی ہے: اب ہر صبح یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آج پمپ پر کیا قیمت ہوگی۔ اور جب عالمی منڈی میں تیزی کا رجحان ہو، جیسا کہ ان دنوں ہے، تو روزانہ کا نظام روزانہ کے اضافے میں بدل جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو صارف تک پہنچانے کے علاوہ کچھ کر سکتی ہے؟ ٹیکسوں میں کمی ایک آپشن ہے — پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر ٹیکس کوئی معمولی رقم نہیں۔ مگر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط اور محصولات کے اہداف اس آپشن کو مشکل بناتے ہیں۔ لہٰذا قلیل مدت میں صارف کو عالمی منڈی کے رحم و کرم پر ہی رہنا پڑے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)