جمعرات کی صبح یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں عام دن کی طرح بسوں میں سفر کرنے والے شہریوں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا۔ مقامی حکام کے مطابق روس کے ایک گلائیڈ بم نے شہر کے ایک مصروف راستے پر دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔ یہ حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔
ڈونیٹسک علاقائی پراسیکیوٹر کے دفتر نے حملے کے بعد کی تصاویر جاری کیں — جل کر ڈھانچہ بن جانے والی بسوں کی دھاتی چادریں، سڑک پر بکھرے ملبے اور لاشیں۔ مناظر اتنے بھیانک تھے کہ بعض ہلاک شدگان کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، کیونکہ ان کے چہرے اور جسم بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹر اب بھی ان کی جان بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق بسوں کو گلائیڈ بم سے نشانہ بنایا گیا — یہ وہ ہتھیار ہیں جو روسی سرحد کے اندر سے چھوڑے جاتے ہیں اور مقررہ ہدف تک سرکتے ہوئے پہنچتے ہیں۔ اسی دن قریبی ایک گاؤں پر گولہ باری میں مزید تین افراد ہلاک ہو گئے۔
کراماتورسک سٹی کونسل نے حملے کو “شہری آبادی کے خلاف روسی فوج کا ایک اور ہولناک جرم” قرار دیا۔ کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ یہاں ایک بار پھر اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں “کوئی فوجی ہدف قطعاً موجود نہیں تھا”۔ شہر محاذ سے تقریباً بیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور ڈونیٹسک میں یوکرین کی دفاعی لائن کا حصہ ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: “یہ حملہ بے جواب نہیں جائے گا۔ روس ڈونباس میں ہر جان کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دنیا کا ردعمل ناگزیر ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے، اور ہلاک شدگان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ڈونیٹسک کے گورنر وادیم فیلاشکین نے بھی روس پر شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو “جنگ کے ہر قابلِ تصور اصول اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تمام ضابطوں” کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یورپی یونین نے بھی حملے کی شدید مذمت کی۔ یورپی کمیشن کے ترجمان کرسچن ویگانڈ نے برسلز میں کہا کہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر جان بوجھ کر کیے جانے والے حملے جنگی جرائم ہیں، اور ان سنگین خلاف ورزیوں کے تمام ذمہ داروں اور ان کے معاونین کا احتساب ہوگا۔ ترجمان کے مطابق روس نے شہریوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، اور متاثرین کی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین میں شہریوں پر روسی حملوں کی لہر تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ایک روز قبل روس کے ایک میزائل نے چرنیگو ریجن کے شہر پریلوکی میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو زمین بوس کر دیا تھا، جس میں پانچ بچوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے زیلنسکی نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے شہری علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی منظوری دی ہے، حالانکہ کرملن اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ کے دوران 17 ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، مگر اقوام متحدہ کا خود کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ سب کیوں اہم ہے؟ کراماتورسک پر حملہ صرف ایک اور بمباری نہیں — یہ یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنانے کی مہم کا حصہ دکھائی دیتا ہے، ایک ایسے شہر میں جو دفاعی پٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گلائیڈ بموں کا استعمال، سرکاری بسوں پر براہِ راست نشانہ، اور اس کے فوراً بعد پریلوکی کی تباہی ایک نمونہ بناتی ہے: روس شہری انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھا رہا ہے، شاید مذاکرات کی میز پر اپنا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے۔ اسی دن برطانیہ نے روس کی مالیاتی خدمات اور اس کے “شیڈو فلیٹ” کے جہازوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا — یعنی عالمی ردعمل بھی حملوں کے ساتھ ساتھ تیز ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندیاں اور مذمت کے بیانات زمین پر بمباری کی رفتار بدل سکتے ہیں، یا پھر اگلی صبح کسی اور شہر کی خبر آئے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)