Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز: فرحان کی نوجوان ٹیم کا پہلا امتحان کل سے

ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کا بیرونی منظر — علامتی تصویر

راولپنڈی — جمعے سے یہاں شروع ہونے والی سری لنکا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کاغذ پر تو ایک عام ہوم سیریز دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں ایک نئے سوچ کے حامل اسکواڈ کا پہلا بڑا امتحان ہے۔ اور یہ امتحان ایک ایسے زخم پر مرہم رکھنے کا موقع بھی ہے جو ابھی پانچ دن ہی پرانا ہے — ایشین گیمز کے فائنل میں بھارت کے ہاتھوں 19 رنز کی شکست۔

سیریز کے تینوں میچز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے: پہلا میچ 9 اکتوبر (جمعہ)، دوسرا 11 اور تیسرا 13 اکتوبر کو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کو سونپی ہے، جب کہ سابق کپتان سلمان علی آغا کو نہ صرف کپتانی سے ہٹایا گیا بلکہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بھی مختصر ترین فارمیٹ کی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے، اگرچہ تینوں کھلاڑی ون ڈے اسکواڈ میں موجود ہیں۔

ایشین گیمز کی چاندی سے سبق

فرحان نے رواں سال ایشین گیمز میں پاکستان کی قیادت کی تھی، جہاں ٹیم جاپان کے شہر نشین میں کھیلے گئے فائنل میں 212 رنز کے تعاقب میں 192 رنز بنا کر چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس فائنل میں حسن نواز نے 51 گیندوں پر 96 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی — پانچ چوکے اور سات چھکے — اور وہ 123 رنز کے ساتھ ایشین گیمز میں پاکستان کے نمایاں بلے باز رہے۔

بدھ کو راولپنڈی میں پریکٹس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں حسن نواز نے صاف کہا کہ ٹیم فائنل کی غلطیاں دہرانے سے بچے گی۔ ان کے الفاظ میں: “ہم آئندہ میچوں میں وہ غلطیاں دہرانے سے بچنے کی کوشش کریں گے جو ایشین گیمز کے فائنل میں کیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑا میچ ہارنے کے بعد وہیں رک جانے سے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا — غلطیوں سے سیکھ کر ہی بہتری آتی ہے۔

حسن کے لیے یہ سیریز ذاتی طور پر بھی اہم ہے۔ گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ناکامی کے بعد انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا، اور ایشین گیمز کے فائنل میں اسی بھارت کے خلاف شاندار اننگز ان کی واپسی کی بنیاد بنی۔

نئی ٹیم، نئے چہرے

پندرہ رکنی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں فرحان کے ساتھ عبدالصمد، ابرار احمد، عرفات منہاس، فخر زمان، حسن نواز، محمد عمران رندھاوا، خواجہ نافع (وکٹ کیپر)، معاذ صداقت، نسیم شاہ، رضا اللہ، صائم ایوب، محمد سلمان مرزا، شاداب خان اور سفیان مقیم شامل ہیں۔

نسیم شاہ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے — انہوں نے آخری بار یہ فارمیٹ فروری میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف ہی کھیلا تھا۔ رضا اللہ کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کے بعد پہلی بار وائٹ بال اسکواڈ میں جگہ ملی ہے، جب کہ محمد عمران رندھاوا کو پہلا ٹی ٹوئنٹی کال اپ ملا ہے۔ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلی ہوئی ہے: آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر شان ٹیٹ مشاورتی بنیادوں پر بولنگ کوچ کی حیثیت سے واپس آئے ہیں، جب کہ ایشلے نوفکے ایشین گیمز کے بعد نیدرلینڈز کے ہیڈ کوچ بننے کے لیے رخصت ہو گئے۔

دوسری طرف سری لنکا کی قیادت کسل مینڈس کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ نومبر میں اپنے دورہ پاکستان میں سری لنکا تین میچوں کی سیریز 2-1 سے ہار گئی تھی، اور فروری میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پالیکیلے میں دونوں ٹیموں کا آخری مقابلہ بھی پاکستان کے حق میں رہا تھا — اس وقت ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کر رہے تھے۔

اصل کھیل: نوجوانوں پر داؤ

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے بابر، شاہین اور آغا جیسے تجربہ کار ناموں کا اخراج محض ایک سیریز کی حکمت عملی نہیں لگتی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بورڈ نوجوان کھلاڑیوں کو وقت دے کر ایک مضبوط ٹیم بنانا چاہتا ہے، کیوں کہ سینئر کھلاڑی اہم مقابلوں میں مسلسل جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے: ٹی ٹوئنٹی میں اب کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب ہوگا، نام کی بنیاد پر نہیں۔

فرحان اس منصوبے کے قدرتی چہرے ہیں۔ رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 383 رنز کے ساتھ وہ ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے، اور ایشین گیمز میں کپتانی کا تجربہ بھی ان کے پاس ہے۔ مگر کپتانی کا بوجھ بلے بازی پر اثر انداز نہ ہو، یہی ان کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد 18 اکتوبر سے انگلینڈ اور سری لنکا کے ساتھ ون ڈے ٹرائی سیریز شروع ہوگی، جس میں شاہین شاہ آفریدی کپتان ہوں گے اور بابر اعظم، حارث رؤف اور سلمان علی آغا بھی ٹیم میں ہوں گے۔ یعنی بورڈ نے فارمیٹس کو الگ الگ دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے — ٹی ٹوئنٹی نوجوانوں کے حوالے، ون ڈے تجربہ کاروں کے۔

راولپنڈی کی پچ عام طور پر بلے بازوں کی مددگار سمجھی جاتی ہے، اور ہوم کراؤڈ کی حمایت بھی پاکستان کے ساتھ ہوگی۔ مگر سری لنکا کو ہلکا لینا غلطی ہوگی — یہ وہی ٹیم ہے جو فروری میں ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف لڑی تھی۔ فرحان کی نوجوان ٹیم کے لیے اصل امتحان یہی ہے: ایشین گیمز کے فائنل کی غلطیاں دہرائے بغیر، گھر میں جیت کا تسلسل قائم کرنا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *