Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

حکومت مذاکرات کے لیے تیار، مگر ریاست یرغمال نہیں بنے گی: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد میں پاکستان کا پارلیمنٹ ہاؤس — حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور یہیں منعقد ہوا تھا

اہم نکات

  • وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بدھ کو اسلام آباد میں کہا کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی، لیکن مذاکرات کو سیاسی مطالبات منوانے کا ہتھیار نہیں بننے دیا جائے گا۔
  • ان کے الفاظ میں: “مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، مگر ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔”
  • پی ٹی آئی کے اس دعوے کو انہوں نے مسترد کر دیا کہ اسے انسداد دہشت گردی کی پالیسی سازی سے باہر رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد سے خبر ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد حکومت نے ایک بار پھر بات چیت کی پیشکش دہرائی ہے — مگر اس بار لہجہ پہلے سے زیادہ سخت ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ مذاکرات ہوں گے، لیکن “دباؤ کی سیاست” کے ذریعے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات مذاکرات کی میز پر حل ہو سکتے ہیں، مگر کوئی بھی مطالبہ ریاست کو یرغمال بنا کر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ایک روز قبل دیے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں پی ٹی آئی قیادت کو احتجاجی منصوبے ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی گئی تھی۔

پس منظر یہ ہے کہ ہفتے کو پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جو اتوار کی صبح تک جاری رہا، مگر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ اس کے اگلے ہی روز، اتوار 4 اکتوبر کو، پی ٹی آئی نے لکی مروت سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا، جو بدھ کو اپنے چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کو رہا کیا جائے اور “آئینی بالادستی” بحال کی جائے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ صرف عمران خان کریں گے۔

رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ اسے انسداد دہشت گردی کی پالیسی سازی سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر حکومتی موقف کا دفاع کیا۔ یہ وہی نکتہ ہے جس پر دونوں فریقوں کے درمیان سب سے گہرا اختلاف سامنے آیا ہے — پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے مطابق مذاکرات اسی لیے ناکام ہوئے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں خود شروع کی گئی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنا چاہتی تھی۔

پریس کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی پر سیاسی عدم استحکام کی سیاست کا الزام بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا واحد ایجنڈا ملک میں بے یقینی پیدا کرنا ہے، اور 2014 سے اسلام آباد کا محاصرہ اس کی سیاست کا مستقل ہتھیار رہا ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا کے وسائل گزشتہ دو برس سے اسی سیاسی سرگرمی میں جھونکے جا رہے ہیں۔

اسی دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف “مجرمانہ غفلت” کا الزام عائد کیا — یہ اشارہ ہے کہ سیکیورٹی کا محاذ اب اس سیاسی کشمکش کا مرکزی میدان بنتا جا رہا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے؟

بدھ کا بیان دراصل حکومت کی “شرائطِ مذاکرات” کا اعلان ہے: بات چیت کے لیے دروازہ کھلا، دباؤ کے لیے بند۔ یہ پیغام صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں — یہ عوام اور مارکیٹوں کے لیے بھی ہے کہ حکومت کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک لانگ مارچ جاری ہے اور پی ٹی آئی یہ کہتی ہے کہ اسے ختم کرنے کا فیصلہ صرف عمران خان کریں گے، تیسرے دور کے مذاکرات کا امکان دھندلا ہی رہے گا۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کس کی شرائط پر ہوں گے — اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی وہ میدان ہے جہاں یہ طے ہو گا۔

آنے والے دنوں میں سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کیا لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے — یا یہ تعطل ایک اور طویل سیاسی بحران کی بنیاد بنے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *