
پیرس — فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف طلبہ کا احتجاج منگل کو اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں 488 افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور 43 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ پیرس، لیون، مارسیل اور نانت سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو ملک بھر میں دو لاکھ چھپن ہزار افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ مزدور یونینوں کا دعویٰ ہے کہ تعداد ساڑھے چار لاکھ کے قریب تھی۔ اعداد و شمار جو بھی ہوں، یہ گزشتہ ماہ شروع ہونے والی طلبہ تحریک کا اب تک کا سب سے بڑا دن تھا۔
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کی شب ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں وزیر داخلہ لارنٹ نونیز اور وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری شریک ہوئے۔ اگلے ہی روز وزیر اعظم سباستین لیکورنو نے جمعے تک تمام ہائی اسکولوں کی تدریس معطل کرنے کا اعلان کیا، تاکہ اسکولوں کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ اسکولوں کی حالت پر “اندرونی جمہوری” مذاکرات کر سکیں۔
یہ تحریک ستمبر کے اواخر میں پیرس کے پسماندہ مضافاتی علاقوں کے لیسے (فرانسیسی ہائی اسکولوں) سے اٹھی تھی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے اسکولوں کی چھتیں ٹپکتی ہیں، بیت الخلا کام نہیں کرتے، چوہے پھر رہے ہیں، ہر کلاس میں 32 سے 35 بچے ٹھونسے جاتے ہیں اور جو استاد چلا جائے اس کی جگہ کوئی نہیں آتا۔
اسٹراسبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک حالیہ گریجویٹ ہیوگو وٹزل نے مظاہرے میں شریک ہو کر کہا: “اشرافیہ اور ہمارے درمیان اتنا بڑا فاصلہ ہے۔”
ہائی اسکول اسٹوڈنٹس یونین کے مطابق منگل کو فرانس کے نصف سے زیادہ لیسے مکمل یا جزوی طور پر بند رہے — طلبہ نے اسکولوں کے دروازے بند کر کے کچرے کے ڈبے لگا دیے۔ وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ احتجاج سے جڑے جرائم میں اب تک ایک ہزار آٹھ سو سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں، جن میں سے 1,483 نابالغ ہیں۔
منگل کے جلوس زیادہ تر پُرامن رہے — یہاں تک کہ پیرس میں مشرقی سرے پلیس دے لا ناسیون کے قریب صورتحال بگڑ گئی۔ پولیس کے مطابق تقریباً تین سو نقاب پوش افراد نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس پر رائٹ پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ کئی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
تشدد کا ایک اور المناک پہلو گزشتہ جمعے کو لانس شہر میں سامنے آیا، جہاں ناکہ بندی کے دوران پولیس کے گرینیڈ پھٹنے سے ایک پندرہ سالہ لڑکے کا ہاتھ جزوی طور پر ضائع ہو گیا۔ فرانس کے پولیس نگران ادارے آئی جی پی این نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکومت ایک طرف طلبہ کے مطالبات — غیر حاضر اساتذہ کی جگہ تقرری، صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک کے تھکا دینے والے اسکول ڈے پر نظرثانی اور لنچ بریک میں اضافہ — پر غور کا وعدہ کر رہی ہے، تو دوسری طرف حکام کا اصرار ہے کہ تحریک کو باہر کے عناصر نے یرغمال بنا لیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے نابالغوں کے خلاف پولیس کے غیر متناسب طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے۔
احتجاج کی گونج سرحدوں سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدامنی کی ذمہ داری “بڑے پیمانے پر ہجرت” اور اسلام پر ڈالی، جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کر کے “پرتشدد کریک ڈاؤن” اور “انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں” پر احتجاج کیا — ایک ایسا بیان جس پر پیرس میں طنزیہ مسکراہٹیں بکھر گئیں۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
فرانس نے 1990، 2005 اور 2018 میں بھی طلبہ بغاوتیں دیکھی ہیں، مگر اس بار ایک بنیادی فرق ہے: یہ کسی ایک اصلاح کے خلاف احتجاج نہیں، بلکہ فرانسیسی ریاست کی روزمرہ مشینری کو چیلنج ہے۔ 2027 میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور میکرون دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے۔ پندرہ سے سترہ سال کے نوجوانوں سے نمٹنے کا طریقہ — ایک ہاتھ میں ڈنڈا، دوسرے میں مذاکرات — جانشینی کی لڑائی کی سمت طے کرے گا اور آنے والی نسل کے لیے فرانسیسی تعلیمی پالیسی کو نئی شکل دے سکتا ہے۔
فی الحال جمعے تک کلاس روم خالی رہیں گے۔ طلبہ کہتے ہیں وہ واپس آئیں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)