Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

روس کا یوکرین پر اب تک کے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک: میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، کم از کم 11 افراد ہلاک

روسی میزائل حملے کے بعد کیف میں امدادی کارکن تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں کام کرتے ہوئے

کیف (07 اکتوبر 2026) — روس نے بدھ کی صبح یوکرین پر حالیہ عرصے کے سب سے شدید میزائل اور ڈرون حملوں میں سے ایک کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، جبکہ دارالحکومت کیف سمیت متعدد علاقوں میں رہائشی عمارتیں اور توانائی کا ڈھانچہ متاثر ہوا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روسی افواج نے رات بھر میں 130 سے زائد ڈرون، 48 کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے 161 اہداف مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بڑی تعداد میں میزائل اپنے اہداف تک پہنچے۔ کیف میں مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے تین بجے کے قریب زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں چیرنیہیو خطے کے شہر پرلوکی میں ہوئیں، جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر میزائل لگا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق اس ایک حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے تلے اب بھی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور امدادی کارکن مسلسل سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کیف کے گنجان آباد علاقے درنیتسکی میں آگ لگنے سے دو افراد ہلاک ہوئے، جس کی تصدیق میئر ویتالی کلِچکُو نے کی۔ کریمنچک میں بلند و بالا عمارتوں پر میزائل حملوں میں دو افراد جان سے گئے، ڈنیپر میں پانچ اپارٹمنٹ عمارتیں متاثر ہوئیں، زاپوریزیا میں ایک ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرایا، اور اولیکساندریا میں بھی دو ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ پولتاوا خطے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر لکھا: “توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اہم ترین اہداف میں سے ایک تھا۔ روس یہ حملے سوچے سمجھے انداز میں تکلیف پہنچانے کے لیے کر رہا ہے۔” انہوں نے بیلسٹک میزائلوں کو یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔

یوکرینی صدر نے حملے کے وقت کو لے کر ایک کڑوا تبصرہ بھی کیا۔ بدھ سات اکتوبر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی 74ویں سالگرہ ہے، اور زیلنسکی کے مطابق یہ حملے “پوتن کی سالگرہ کا تحفہ” ہیں۔ زیلنسکی نے منگل کی رات ہی اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بڑے حملے کی پیش گوئی کی تھی۔

روس کی وزارتِ دفاع نے اس کارروائی کو “بڑے پیمانے کا حملہ” قرار دیا ہے، جس کے تحت کیف اور دیگر خطوں میں یوکرین کے فوجی-صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روس کے مطابق ان اہداف میں یوکرینی دفاعی کمپنی فائر پوائنٹ کی وہ تنصیبات بھی شامل ہیں جہاں فلیمنگو کروز میزائل اور درمیانی اور طویل فاصلے کے ڈرون تیار اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ یوکرین نے اپنا پہلا خود ساختہ بیلسٹک میزائل جنگ میں فائر کیا ہے، جو فائر پوائنٹ ہی کی تیار کردہ تھا۔

اسے کیوں اہم سمجھا جا رہا ہے: یوکرین کے توانائی نیٹ ورک پر یہ حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب درجہ حرارت گر رہا ہے اور سردیاں قریب ہیں۔ گزشتہ سالوں میں روس نے ہر سردی سے پہلے یہی حکمت عملی اپنائی — شہریوں کو اندھیرے اور ٹھنڈ میں دھکیل کر حکومت پر دباؤ بڑھاؤ۔ ساتھ ہی فائر پوائنٹ جیسی تنصیبات کو نشانہ بنانا بتاتا ہے کہ ماسکو کی نظر اب یوکرین کے اپنے میزائل پروگرام پر ہے، جو میدانِ جنگ میں مغربی ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کا زیلنسکی کا سب سے بڑا جواب تھا۔ حملوں کی شدت اور پوتن کی سالگرہ کا انتخاب بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگ کا کوئی بھی دائرہ اب بھی محدود نہیں، اور اقوامِ متحدہ کی اپیلوں کے باوجود شہری آبادی مسلسل خطرے میں ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *