Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ٹرمپ کا تاریخی حکم: فورٹ ہڈ میں 13 افراد کے قاتل کو فائرنگ اسکواڈ سے پھانسی — 3 دسمبر کو عمل درآمد

امریکی فوج کے سابق میجر ندال حسن کی سرکاری تصویر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی دینے کے حکم پر دستخط کر دیے ہیں — یہ سترہ سال پرانے کیس کا وہ موڑ ہے جس کے بعد امریکی فوج ساٹھ سال سے زیادہ عرصے میں پہلی بار کسی سزا پر عمل درآمد کرے گی۔ پینٹاگون کے مطابق یہ فیصلہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر کیا گیا، اور عمل درآمد کی تاریخ 3 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔پینٹاگون کے ترجمان سین پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ “سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے سفارش کی ہے — اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظوری دے دی ہے — کہ مجرم دہشت گرد ندال ملک حسن کو امریکی آرمی کے فائرنگ اسکواڈ سے موت کی سزا دی جائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “حسن کے لیے حساب کا دن بالآخر آ گیا ہے۔” بعد ازاں قائم مقام آرمی سیکریٹری ایڈم ٹیلی نے تصدیق کی کہ پھانسی 3 دسمبر کو فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں دی جائے گی۔واقعہ پانچ نومبر 2009 کا ہے۔ اس وقت کے آرمی میجر اور ماہر نفسیات ندال حسن نے فورٹ ہڈ کے سولجر ریڈی نیس پروسیسنگ سینٹر میں فائرنگ کی، جہاں فوجی عراق اور افغانستان میں تعیناتی سے پہلے طبی معائنے کے لیے آئے تھے۔ حسن نے “اللہ اکبر” کے نعرے لگاتے ہوئے لیزر سائٹ والی پستول سے گولیاں چلائیں — 12 حاضر سروس فوجی اور ایک ریٹائرڈ فوجی سمیت 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں ایک سویلین پولیس افسر کی گولی سے حسن زخمی ہوئے اور کمر سے نیچے مفلوج ہو گئے؛ وہ اس وقت سے وہیل چیئر پر ہیں۔حسن پر اگست 2013 میں فوجی عدالت نے 13 قتل اور 32 اقدام قتل کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔ مقدمے کے دوران انہوں نے اپنا دفاع خود کیا، کوئی گواہ پیش نہیں کیا اور الزامات سے انکار کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی — ان کے سرکاری وکیلوں نے اس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ خود موت کی سزا چاہتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ حسن امریکا کی عراق اور افغانستان میں فوجی مہمات کے مخالف تھے، اور ان کے القاعدہ سے منسلک انتہا پسند مبلغ انور العولقی سے آن لائن رابطے تھے۔ حسن نے خود کو “رخ بدلنے والا فوجی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کا مقصد امریکی فوجیوں کو افغانستان جا کر مسلمانوں کے قتل سے روکنا تھا۔اگر یہ سزا عمل میں آئی تو یہ 1961 کے بعد امریکی فوج کی پہلی پھانسی ہوگی، اور 1945 کے بعد پہلی بار فائرنگ اسکواڈ سے عمل درآمد ہوگا۔ امریکی ملٹری جسٹس کے نظام میں موت کی سزا کے لیے صدارتی منظوری لازمی ہوتی ہے، جو اب مل چکی ہے — اگرچہ حسن کے پاس وفاقی عدالتوں میں چیلنج کا راستہ اب بھی کھلا ہے، جو عمل درآمد میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔یہ حکم ٹرمپ انتظامیہ کی سزائے موت کے طریقوں میں توسیع کا حصہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں وفاقی جرائم کے لیے فائرنگ اسکواڈ کے ساتھ بجلی کی کرسی اور گیس کے ذریعے عمل درآمد کو بھی منظور شدہ طریقوں میں شامل کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ زہر کے ٹیکے کے لیے ادویات کی دستیابی میں بڑھتی مشکلات ہیں — گزشتہ ہفتے ٹینیسی میں ایک خاتون قیدی کرسٹا پائیک کی زہر کے ٹیکے سے پھانسی کی کوشش ناکام ہو گئی تھی، جس کے بعد ان کے وکیل فائرنگ اسکواڈ جیسے متبادل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے: فورٹ ہڈ حملہ امریکی فوجی تنصیب پر تاریخ کا بدترین قتل عام تھا، اور تیرہ سال سے موت کی سزا کے باوجود عمل درآمد نہ ہونا امریکی نظام عدل پر سوالات اٹھاتا رہا ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ محض ایک قیدی کی قسمت کا فیصلہ نہیں — یہ سزائے موت کے طریقوں، فوجی انصاف، اور “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے دور کے زخموں پر قومی بحث کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ دسمبر تک دنیا کی نظریں فورٹ ہڈ پر ہوں گی، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا قانونی چیلنجز اس تاریخی سزا کو روک پاتے ہیں یا نہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *