برلن: جرمنی کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی “فیڈرل انٹیلی جنس سروس” (BND) کے سابق سربراہ آگسٹ ہیننگ کو غداری اور جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی سالہ سابق انٹیلی جنس چیف کو منگل چھ اکتوبر کو حراست میں لیا گیا، اور آج بدھ کو انہیں کارلسروہے میں وفاقی عدالتِ انصاف کے تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
وفاقی پبلک پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق ہیننگ “غدارانہ جاسوسی، ریاستی رازوں کے حصول، غداری کی کوشش اور غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے سنگین شبہات” کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک اور مشتبہ شخص، مینفریڈ ڈی، بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو کبھی ہیننگ کے چیف آف اسٹاف رہے اور بعد میں 2012 سے 2026 تک BND کے کئی سربراہوں کے دفتر مینیجر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ 2010 کے موسم بہار میں دونوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ مینفریڈ ڈی ہیننگ کو مسلسل قیمتی انٹیلی جنس مواد فراہم کریں گے — معاوضے کے عوض۔ تحقیقات کے مطابق گزشتہ برسوں میں ڈی نے ہیننگ کو تقریباً دو ہزار دستاویزات دیں، جن میں سے بیشتر خفیہ نوعیت کی تھیں اور صرف BND کے اندرونی استعمال کے لیے مخصوص تھیں، خاص طور پر چانسلری میں ہونے والی ایگزیکٹو انٹیلی جنس بریفنگز کے لیے۔ تازہ ترین دستاویزات جون 2022 کی بتائی جاتی ہیں۔
الزام یہ بھی ہے کہ ہیننگ نے یہ مواد اپنے نجی مشاورتی کام میں استعمال کیا، اور کم از کم ایک موقع پر ان خفیہ دستاویزات کی بنیاد پر کسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے افسر کے لیے تجزیاتی رپورٹ تیار کی۔ پراسیکیوٹرز نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ملک کون سا تھا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ مواد اپنے مطلوبہ وصول کنندہ تک پہنچا بھی یا نہیں۔ جرمن نشریاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق یہ معاملہ روس سے متعلق نہیں ہے، جبکہ ڈیر شپیگل نے آذربائیجان سے تعلق کی خبر دی ہے — تاہم پراسیکیوٹرز نے اس کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔
یہ کیس دراصل ایک بالکل مختلف اسکینڈل کی تفتیش سے نکلا۔ ستمبر 2025 میں ہیمبرگ پولیس نے کاروباری خاتون کرسٹینا بلاک کے بچوں کے اغوا کے مقدمے میں ہیننگ کے ٹھکانوں کی تلاشی لی تھی، اور وہیں سے BND کا تازہ خفیہ مواد برآمد ہوا۔ مئی 2026 میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے یہ تفتیش سنبھالی اور ہیننگ کے فون ٹیپ کیے گئے۔ منگل کو باویریا، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور برلن میں چھاپے مارے گئے۔
مینفریڈ ڈی کو منگل کی سہ پہر ہی وفاقی عدالتِ انصاف میں تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا گیا، جنہوں نے ان کی قبل از مقدمہ حراست کا حکم دے دیا۔ ہیننگ کی پیشی آج ہوگی، جہاں جج فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں بھی مقدمے سے پہلے حراست میں رکھا جائے گا۔
آگسٹ ہیننگ 1998 سے 2005 تک BND کے صدر رہے اور اس کے بعد 2009 تک وزارتِ داخلہ میں اسٹیٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا نام ماضی میں بھی متنازع رہا ہے — 2002 میں انہوں نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر “کرو بال” نامی مخبر کے عراق کے ہتھیاروں سے متعلق دعووں کو قابلِ یقین قرار دیا تھا، جو بعد میں غلط ثابت ہوئے اور 2003 میں عراق پر حملے کی ایک وجہ بنے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ کیس “سرد جنگ کے بعد جرمنی کے سب سے بڑے انٹیلی جنس اسکینڈلوں میں شمار” ہوتا ہے۔ ایک سینئر سیکیورٹی قانون ساز کے مطابق کسی سابق انٹیلی جنس سربراہ کی گرفتاری “بے مثال” ہے اور اس سے اتحادی ممالک کے ساتھ جرمنی کے انٹیلی جنس تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ کہانی کیوں اہم ہے: یہ محض ایک بوڑھے افسر کی ذاتی غلطی کا معاملہ نہیں۔ دو ہزار خفیہ دستاویزات، بارہ سال سے جاری مبینہ رسائی، اور چانسلری کی بریفنگز تک پہنچ — یہ جرمنی کے انٹیلی جنس نظام کی حفاظت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ لیک کسی بیرونی ہیک یا دہشت گرد نیٹ ورک سے نہیں، بلکہ ادارے کے اپنے سابق سربراہ اور ان کے دیرینہ معاون کے ذریعے ہوئی۔ جب وہی لوگ راز بیچنے لگیں جنہیں ان کی حفاظت سونپی گئی ہو، تو کسی بھی ملک کا انٹیلی جنس ڈھانچہ اندر سے ہل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برلن سے لے کر واشنگٹن تک انٹیلی جنس حلقوں میں اس کیس کو گہری تشویش سے دیکھا جا رہا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)