Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

کوانٹم چپ جس نے مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ ہفتوں سے دنوں میں کر دی

گوگل کا سائیکامور کوانٹم کمپیوٹر پروسیسر — جدید کوانٹم چپ کی قریبی تصویر۔

اہم نکات

  • کیا ہوا: آسٹریلوی کمپنی سلکان کوانٹم کمپیوٹنگ (ایس کیو سی) کا کوانٹم سے بہتر بنایا گیا اے آئی سسٹم “واٹرمیلن” فاسٹ کمپنی کی 2026 کی “نیکسٹ بگ تھنگز اِن ٹیک” فہرست میں شامل کر لیا گیا — اعلان 6 اکتوبر 2026 کو ہوا۔
  • ٹیکنالوجی کیا ہے: واٹرمیلن دنیا کا پہلا کمرشل کوانٹم ریزروائر کمپیوٹر ہے، جو اکتوبر 2025 میں متعارف ہوا۔ یہ ایٹم کی درستگی سے بنائے گئے کوانٹم پرزوں کی مدد سے عام ڈیٹا سے کوانٹم خصوصیات نکالتا ہے۔
  • حقیقی آزمائش: ٹیلسٹرا (آسٹریلیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی) کے تجربے میں اس نے ایک پیش گوئی والے نیٹ ورک ماڈل کی ٹریننگ کا وقت ہفتوں سے گھٹا کر دنوں میں کر دیا؛ شنائیڈر الیکٹرک کے ساتھ گھریلو توانائی کی پیش گوئی کے ماڈلوں کی درستگی روایتی طریقے کے مقابلے میں 41 فیصد تک بہتر ہوئی۔
  • کیوں اہم ہے: مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ کی لاگت اور بجلی کی کھپت بڑھتی جا رہی ہے — یہ ٹیکنالوجی موجودہ ماڈلوں کو تیز، سستا اور کم وسائل والا بنانے کا راستہ کھولتی ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ کے بارے میں برسوں سے سن رہے ہیں کہ یہ سب کچھ بدل دے گی — مگر یہ تبدیلی عام طور پر کسی دور کے مستقبل کی بات لگتی تھی۔ سڈنی کی کمپنی سلکان کوانٹم کمپیوٹنگ نے اسی فاصلے کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا “واٹرمیلن” سسٹم خالص کوانٹم کمپیوٹر نہیں، بلکہ ایک ہائبرڈ ہے: کوانٹم اور روایتی کمپیوٹنگ کا امتزاج۔

آسان الفاظ میں، ریزروائر کمپیوٹنگ کا اصول تالاب میں پتھر پھینکنے جیسا ہے — پتھر کی لہریں تالاب کی شکل کے بارے میں ایسی معلومات ظاہر کر دیتی ہیں جو براہ راست نظر نہیں آتیں۔ واٹرمیلن عام ڈیٹا کو کوانٹم پرزوں سے گزار کر ایسی “کوانٹم بہتر خصوصیات” نکالتا ہے جو بکھرے ہوئے اور وقت کے ساتھ بدلتے ڈیٹا میں پوشیدہ تعلقات کو بے نقاب کرتی ہیں۔ یہ ان اداروں کے لیے بنایا گیا ہے جن کے لیے اے آئی ٹریننگ کی لاگت، بجلی کی کھپت اور نتائج تک پہنچنے کا وقت براہ راست کاروباری فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ فاسٹ کمپنی نے اسے “کمپیوٹنگ، چپس اور بنیادی ٹیکنالوجی” کے زمرے میں اسی کوانٹم-کلاسیکل امتزاج کی وجہ سے منتخب کیا۔

اصل کہانی رفتار کی نہیں، معیشت کی ہے

یہاں اصل کہانی چپ کی رفتار نہیں، معیشت ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کی ٹریننگ اب اتنی مہنگی اور بجلی کھانے والی ہو چکی ہے کہ ڈیٹا سینٹروں کے لیے بجلی خود ایک قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ٹیکنالوجی جو موجودہ ماڈلوں کو کم وسائل میں تیز ٹرین کرے، صرف انجینئری کی کامیابی نہیں — ماحولیات اور معیشت دونوں کی خبر ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس میں ایک اور بھی سبق ہے۔ ہم سو میگاواٹ کے اے آئی ڈیٹا سینٹر نہیں بنا سکتے، مگر ایسی ٹیکنالوجیز جو اے آئی کو سستا اور کم بجلی والا بنائیں، ترقی پذیر دنیا کے لیے میدان برابر کرتی ہیں۔ مستقبل شاید ان کا نہیں ہوگا جو سب سے بڑا کمپیوٹر بنائیں، بلکہ ان کا جو موجودہ کمپیوٹروں سے سب سے زیادہ کام نکالیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ کا دور کسی دھماکے سے نہیں آئے گا۔ وہ خاموشی سے آئے گا — ایک ایک ماڈل کو تیز، سستا اور ہلکا بناتے ہوئے۔ واٹرمیلن اسی خاموش انقلاب کا پہلا چہرہ ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *