Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

16.3 ٹی آر پی: “درِ نجات” نے 2026 کا سب سے بڑا ڈرامہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا

ٹیلی ویژن پروڈکشن کنٹرول روم میں مانیٹرز کے سامنے کام کرتے عملے کے ارکان۔

پاکستانی ٹیلی ویژن کی ریٹنگز کی دوڑ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔ اے آر وائی ڈیجیٹل کے جاری ڈرامے “درِ نجات” نے 16.3 ٹی آر پی حاصل کر کے 2026 کے کسی بھی ڈرامے کی سب سے بلند ریٹنگ کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔

یہ اعداد و شمار چینل کے ایک ریٹنگ پوسٹر میں سامنے آئے، جسے ڈرامے کے مرکزی اداکار شہریار منور نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا۔ شہریار نے پوسٹ کو “الحمدللہ” اور ہاتھ جوڑنے والی ایموجی کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کے ساتھ ہی ایک اور موازنہ بھی گردش کرنے لگا — سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ “درِ نجات” نے ہم ٹی وی کے مقبول ڈرامے “زنجیریں” کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اس سال کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ڈراموں میں شمار ہوتا تھا۔

کہانی جو دلوں کو چھو گئی

“درِ نجات” معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے قلم اور ہدایت کار ثاقب خان کی ہدایت کاری کا ثمر ہے۔ کہانی دل شکستگی، تقدیر اور نجات کے گرد گھومتی ہے — ایک ایسا موضوع جو پاکستانی ناظرین کے دلوں میں گھر کر گیا۔

ڈرامے میں شہریار منور ابوبکر کے کردار میں جلوہ گر ہیں، جبکہ درِ فشاں سلیم، نامر نواز خان، رومیسہ خان، سحر ہاشمی، ثانیہ سعید اور صبا حمید جیسے تجربہ کار فنکار بھی کاسٹ کا حصہ ہیں۔ یہ ڈرامہ اے آر وائی ڈیجیٹل پر ہر جمعہ اور ہفتہ کی رات 8 بجے نشر ہوتا ہے۔

ناظرین کی ایک بڑی تعداد کے لیے ایک اہم تبدیلی بھی نوٹ کرنے والی ہے: اے آر وائی ڈیجیٹل نے 17 ستمبر 2026 سے اپنے ڈراموں کی نئی اقساط یوٹیوب پر جاری کرنا بند کر دی ہیں، اس لیے “درِ نجات” کی تازہ اقساط اب صرف اے آر وائی پلس پر دستیاب ہیں۔

تجزیہ: اعداد سے آگے کی کہانی

یہاں ایک صحافتی احتیاط ضروری ہے۔ 16.3 ٹی آر پی کا دعویٰ چینل کے اپنے پوسٹر سے آیا ہے، اور اس پوسٹر میں نہ “زنجیریں” کی متعلقہ ریٹنگ دی گئی ہے اور نہ یہ واضح ہے کہ یہ اعداد کس ناظرین کیٹیگری یا کس مدت کے ہیں۔ چینلز کی جانب سے جاری کردہ ریٹنگز میں اکثر ایسے ہی خلاء ہوتے ہیں، اور مختلف چینلز مختلف پیمانے استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا موازنہ کرتے وقت یہ احتیاط ذہن میں رکھنی چاہیے۔

لیکن ان تحفظات کے باوجود، 16.3 کا ہندسہ اپنی جگہ غیر معمولی ہے۔ اس سال کے دیگر بڑے ڈراموں — جیسے “ڈاکٹر بہو” (تقریباً 11.5 ٹی آر پی) یا “بس تیرا ساتھ ہو” (تقریباً 11.3) — کے مقابلے میں یہ فرق واضح اور نمایاں ہے۔ سوال یہ ہے: اس کامیابی کے پیچھے کیا ہے؟

جواب شاید کہانی میں ہے۔ عمیرہ احمد کا نام ہی معیار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، اور “درِ نجات” روحانیت، قربانی اور توبہ جیسے موضوعات کو خاندانی ڈرامے کے قالب میں پیش کرتا ہے۔ شہریار منور کی ابوبکر کے روپ میں اداکاری کو خاص پذیرائی ملی — اداکارہ زارا نور عباس نے ان کے ایک منظر میں تلاوتِ قرآن کی ادائیگی کی تعریف کی تھی، اور رومیسہ خان کی حمنا کے کردار میں کارکردگی بھی سراہی گئی۔

ایک اور پہلو کاروباری ہے۔ جب اے آر وائی اپنی اقساط یوٹیوب سے ہٹا کر اے آر وائی پلس پر لے گیا، تو ٹی وی ریٹنگز کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی۔ اب یہ صرف چینلز کی عزت کا سوال نہیں، بلکہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی بقا کا بھی ہے۔ “درِ نجات” کی یہ کامیابی اے آر وائی کی اس حکمت عملی کی توثیق بھی ہے۔

مختصر یہ کہ 2026 پاکستانی ڈراموں کے لیے سنہری سال ثابت ہو رہا ہے — اور اس وقت تاج “درِ نجات” کے سر ہے۔

باکس: ایک نظر میں

  • ریٹنگ: 16.3 ٹی آر پی — 2026 کے کسی ڈرامے کی بلند ترین ریٹنگ کا دعویٰ
  • مصنفہ: عمیرہ احمد | ہدایت کار: ثاقب خان
  • کاسٹ: شہریار منور، درِ فشاں سلیم، نامر نواز خان، رومیسہ خان، ثانیہ سعید، صبا حمید
  • نشریات: اے آر وائی ڈیجیٹل، ہر جمعہ و ہفتہ رات 8 بجے (نئی اقساط اے آر وائی پلس پر)
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *