Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

نئے صوبوں کی بحث پارلیمنٹ پہنچ گئی — 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس؟ (ٹائم لائن)

اسلام آباد کا پارلیمنٹ ہاؤس

اسلام آباد کی سیاست میں ایک پرانی بحث نئے سرے سے گرم ہو رہی ہے: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ موضوع اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ — دونوں ایوانوں میں زیرِ بحث آئے گا۔ اور اسی کے ساتھ قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ یہ بحث کہاں سے شروع ہوئی اور اب کہاں کھڑی ہے — مکمل ٹائم لائن:

جولائی 2026 — محسن نقوی کا “منہدم نظام” والا بیان
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک کا گورننس نظام منہدم ہو چکا ہے اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ نئی انتظامی اکائیاں بنائی جائیں جنہیں نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہوں۔ بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ پچھلے 80 برس کی تنزلی کی طرف تھا، کسی ایک حکومت کی طرف نہیں۔ یہی وہ بیان تھا جس نے صوبوں کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

6 ستمبر 2026 — اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی کا مسودہ
جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے 27 رکنی منتخب اسمبلی، ایک چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکموں پر مشتمل مسودہ پیش کیا۔ اسی دوران یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ کہیں اسلام آباد کو صوبہ تو نہیں بنایا جا رہا۔

10 ستمبر 2026 — پارلیمنٹ میں بحث کا باضابطہ اعلان
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اعلان کیا کہ اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں نئے صوبوں پر بحث ہوگی۔ ان کے بقول بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہاؤس ہے، گلی محلے یا میڈیا ہاؤس نہیں۔ انہوں نے ایک اہم وضاحت بھی کی: اسلام آباد صوبہ نہیں بن رہا، وفاقی علاقہ ہی رہے گا — البتہ دارالحکومت کے لیے گورننس کا نیا ماڈل زیرِ غور ہے، جس میں منتخب اسمبلی اور میئر یا چیف ایگزیکٹو کا عہدہ شامل ہو سکتا ہے۔

ستمبر 2026 — بلدیاتی آرڈیننس کی میعاد ختم
اسی مہینے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس — جو 9 جنوری 2026 کو جاری ہوا تھا — 240 دن مکمل ہونے پر ختم ہو گیا۔ یوں دارالحکومت کا بلدیاتی نظام عملاً معطل ہو گیا، جس نے نئے گورننس ماڈل کی بحث کو مزید ہوا دی۔

6 اکتوبر 2026 — اجلاس کی تاریخ پر مشاورت جاری
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ ابھی طے نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو اجلاس بلانے کا امکان کم ہو گیا ہے، جبکہ 13 اکتوبر کی تجویز زیرِ غور ہے۔ حکومت اس حوالے سے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کر رہی ہے۔

یہ بحث صرف انتظامی نہیں، سیاسی ہے

نئے صوبے کا مطلب صرف نقشے پر نئی لکیریں نہیں — نئی اسمبلیاں، نئے وزیراعلیٰ، نئے بجٹ اور وسائل کی ازسرِنو تقسیم۔ یعنی طاقت کا بٹوارہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر حکمران اتحاد کے اندر بھی یکسوئی نہیں؛ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس پر اختلاف کی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔

اب سب کی نظریں اکتوبر کے اجلاسوں پر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بحث محض تقریروں تک محدود رہتی ہے یا کسی ٹھوس مسودے میں ڈھلتی ہے — اور 13 اکتوبر کی تاریخ حتمی ہوتی ہے یا مشاورتوں کی نذر ہو جاتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *