اہم نکات:
- کیا ہوا: 30 ستمبر 2026 کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے کاک پٹ میں عمانی معاون پائلٹ حمام الحمامی نے بھارتی کیپٹن سمت مچھر پر حملہ کر دیا۔
- کیپٹن کی حالت: رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے کریش ایکس سے کیپٹن کے سر پر وار کیا؛ سمت مچھر کو “ڈپریسڈ اسکل فریکچر” ہوا اور سعودی عرب میں ان کی ہنگامی سرجری کی گئی۔
- کتنا بڑا خطرہ تھا: طیارہ تقریباً 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ نیچے آیا؛ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے لڑاکا طیارے روانہ کیے اور اگر طیارہ تل ابیب کی طرف بڑھتا تو اسے مار گرانے کی تیاری تھی۔
- بچاؤ کیسے ہوا: شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن نے کاک پٹ کا دروازہ دو بار کھولا؛ مسافر اندر داخل ہوئے، حملہ آور کو قابو کیا اور سعودی پولیس کے حوالے کیا۔
- اب کیا ہو رہا ہے: متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور سعودی حکام مشترکہ تفتیش کر رہے ہیں؛ فلائی دبئی اسرائیل کی اجازت سے تل ابیب کی پروازیں بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔
30 ستمبر کی صبح فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 معمول کے مطابق دبئی سے تل ابیب روانہ ہوئی۔ جہاز میں تقریباً 174 مسافر اور عملہ سوار تھا۔ اڑان کے کچھ ہی دیر بعد کاک پٹ میں وہ کچھ ہوا جس کا تصور بھی مشکل ہے: عمانی معاون پائلٹ حمام الحمامی نے اچانک بھارتی کیپٹن سمت مچھر پر حملہ کر دیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
دی ویک کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے کیپٹن کو پیچھے سے کریش ایکس سے مارا۔ وار اتنا شدید تھا کہ سمت مچھر کی کھوپڑی ٹوٹ گئی — طبی اصطلاح میں “ڈپریسڈ اسکل فریکچر”، جس میں ہڈی کا ٹکڑا اندر کی طرف دھنس جاتا ہے اور دماغ پر دباؤ پڑتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فاکس اینڈ فرینڈز کو انٹرویو میں بتایا کہ کیپٹن کے سر میں چوٹیں آئیں اور ان کا بازو بری طرح زخمی ہوا۔ ان کے الفاظ میں، وہ مسافر “عام شہری تھے جو ہیرو بن گئے — سپر ہیرو”۔
اس دوران طیارہ بے قابو ہو کر تقریباً 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ نیچے آیا۔ اسرائیل میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے لڑاکا طیارے روانہ کیے، اسرائیلی فضائی حدود بند کر دی گئیں اور ایک کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر طیارہ تل ابیب کی طرف بڑھتا رہتا تو اسے مار گرانے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم تک پہنچتا — طیارہ گرانے کا حتمی اختیار وہیں تھا۔ سعودی عرب نے بھی اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے تباہی ٹال دی۔ شدید زخموں، خون کے بہنے اور دھندلی نظر کے باوجود سمت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ دو بار کھولا۔ مسافر اندر داخل ہوئے، حملہ آور کو قابو کیا — رپورٹس کے مطابق اسے ہیڈ فون کی تار سے باندھا گیا — اور طیارہ سعودی عرب کے تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ وہاں سے زخمی کیپٹن کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ہنگامی سرجری ہوئی۔
تحقیقات میں جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، وہ مزید تشویشناک ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ حمام الحمامی نے یہ منصوبہ مہینوں پہلے سے بنایا تھا — اس نے جان بوجھ کر اسرائیل کے روٹس پر ڈیوٹی مانگی اور مبینہ طور پر نگرانی کے دورے بھی کیے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس کا “پلان بی” امریکہ کے کسی فوجی اڈے سے ٹکرانا تھا۔ تفتیش کاروں کو اس نے کہا کہ یہ “غزہ کا بدلہ” تھا۔ متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ تحقیقات شروع ہو چکی ہیں، اسرائیلی خفیہ ادارہ شن بیت ملزم سے پوچھ گچھ میں شامل ہے، اور سعودی حکام بھی اس کیس کا حصہ ہیں۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟ یہ صرف ایک بہادر کیپٹن اور بہادر مسافروں کی کہانی نہیں۔ اصل سوال فضائی سلامتی کے نظام پر اٹھتا ہے: ایک مشتبہ ذہنیت رکھنے والا شخص تجارتی طیارے کے کاک پٹ تک پہنچا کیسے؟ اگر رپورٹس درست ہیں کہ اس نے منصوبہ بندی کے تحت اسرائیل کے روٹس کا انتخاب کیا تو یہ ایئر لائنز کے پائلٹوں کی نفسیاتی جانچ اور پس منظر کی چھان بین میں سنگین خامی کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری طرف، اسرائیل کا لڑاکا طیارے بھیجنا اور طیارہ گرانے کی تیاری ظاہر کرتی ہے کہ ستمبر کے بعد سے خطے میں فضائی سلامتی کتنی کشیدہ ہے — ایک غلط فہمی بھی المیے میں بدل سکتی تھی۔
اب سب کی نظریں تفتیش کے نتائج پر ہیں۔ یو اے ای کی تحقیقات طے کریں گی کہ ایئر لائن کی بھرتی اور نگرانی میں کہاں کوتاہی ہوئی، جبکہ فلائی دبئی تل ابیب کی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے اسرائیلی حکام کی منظوری کی منتظر ہے۔ اور سمت مچھر — جنہوں نے ٹوٹی کھوپڑی کے ساتھ 174 جانوں کے لیے دروازہ کھولا — اب بھی اسپتال میں صحتیابی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)