Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

طبیعیات کا نوبیل انعام 2026: برف کو دوربین بنانے والے فرانسس ہلزن کے نام

جنوبی قطب میں برف کے درمیان آئس کیوب نیوٹرینو مشاہدہ گاہ کی عمارت

اسٹاک ہوم — چار دہائیوں پہلے جسے لوگ دیوانگی کہتے تھے، آج اسے نوبیل انعام مل گیا۔ رائل سوئڈش اکیڈمی آف سائنسز نے منگل کے روز اعلان کیا کہ 2026 کا طبیعیات کا نوبیل انعام بیلجیم میں پیدا ہونے والے 82 سالہ طبیعیات دان فرانسس ہلزن کو دیا گیا ہے۔ اکیڈمی کے مطابق یہ انعام ان کی “آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں فیصلہ کن کردار اور کہکشاؤں سے باہر کے توانا نیوٹرینوز کی دریافت” کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

یہ انعام پوری طرح ایک ہی شخص کے نام ہے۔ ہلزن امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن سے وابستہ ہیں، وہی ادارہ جو آئس کیوب منصوبے کی قیادت کر رہا ہے۔

کہانی 1980 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے۔ ہلزن نے سوچا کہ کائنات کے “بھوت ذرات” — نیوٹرینوز — کو پکڑنے کا بہترین جال جنوبی قطب کی برف ہو سکتی ہے۔ نیوٹرینو اتنے سرپھرے ہیں کہ نہ برقی چارج رکھتے ہیں اور نہ کوئی قابلِ ذکر کمیت، اور یہ ستاروں، سیاروں، یہاں تک کہ پوری کہکشاؤں سے آرپار گزر جاتے ہیں۔ ہر سیکنڈ میں کھربوں نیوٹرینو آپ کے جسم سے گزر رہے ہیں اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

انہیں پکڑنے کا طریقہ ہلزن نے یہ نکالا: ایک مکعب کلومیٹر برف میں ہزاروں روشنی کے سینسر دفن کر دو اور انتظار کرو۔ جب کوئی دور دراز کائنات سے آیا نیوٹرینو برف کے کسی ایٹم سے ٹکراتا ہے تو نیلے رنگ کی ایک مدھم چمک پیدا ہوتی ہے — چیرنکوف تابکاری — جسے یہ سینسر پکڑ لیتے ہیں اور ذرے کے آنے کی سمت اور توانائی کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔

کاغذ پر یہ خیال سادہ لگتا ہے، زمین پر یہ انجینئرنگ کا کوہِ گراں تھا۔ گرم پانی کے ڈرل سے برف میں ڈیڑھ سے ڈھائی کلومیٹر گہرے سوراخ کھودے گئے۔ ان میں 86 تاروں پر 5,160 سے زائد سینسر اتارے گئے۔ منصوبہ 2010 میں مکمل ہوا اور اس میں 58 اداروں اور 14 ممالک کے 450 سے زائد محققین اور انجینئروں نے حصہ لیا۔ 2013 میں آئس کیوب نے پہلی بار ایسے توانا نیوٹرینوز کے ملنے کی شہادت دی جو ہماری کہکشاں سے باہر سے آئے تھے — کائنات کے دور دراز ترین اور پرتشدد ترین گوشوں کے پیغام بردار۔

نوبیل کمیٹی برائے طبیعیات کے چیئر مارک پیئرس نے اعلان کے موقع پر کہا: “فرانسس ہلزن نے محققین اور انجینئروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم کی قیادت کی جس نے ہمیں ایک شاندار آلہ دیا۔ ان کی ثابت قدمی اور سائنسی بصیرت نے فلکیات کی ایک نئی قسم کی راہ ہموار کی ہے۔”

ہلزن کو انعام کی خبر اٹلی میں فون پر ملی۔ کمیٹی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “یہ میرے لیے ایک بڑی حیرت تھی، میں نے اس کی بالکل توقع نہیں کی تھی۔” ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب منصوبہ شروع ہوا تو سب کو لگا یہ اچھا خیال ہے، “لیکن بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ یہ کامیاب ہو گا — مجھے خود کو بھی نہیں۔”

انعام کے ساتھ 12 ملین سویڈش کرونا — تقریباً 12 لاکھ ڈالر — بھی ملیں گے۔ دس دسمبر کو اسٹاک ہوم میں سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاو ہلزن کو تمغہ پہنائیں گے۔

یہ اس ہفتے کا دوسرا نوبیل ہے۔ پیر کو طب کا انعام تین سائنسدانوں کو آپٹو جینیٹکس پر ملا تھا — وہ تکنیک جو دماغ کے خلیوں کو روشنی سے کنٹرول کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ بدھ کو کیمسٹری کا اعلان ہو گا، اس کے بعد ادب، امن اور معاشیات کے انعامات باقی ہیں۔

یہ انعام محض ایک تقریب نہیں — ایک نئی فلکیات کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہے۔ روشنی کی ایک حد ہے: وہ دھول اور گیس کے بادلوں میں پھنس کر بکھر جاتی ہے۔ نیوٹرینو کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ وہ کائنات کے پرتشدد ترین مناظر — سپر ماسیو بلیک ہولز کے دہانے، مرتے ہوئے ستاروں کے دھماکے — سے سیدھی لکیر میں نکل کر ہم تک پہنچتے ہیں۔ آئس کیوب کو آٹھ مکعب کلومیٹر برف تک پھیلانے کا منصوبہ پہلے سے زیرِ غور ہے۔ ہلزن نے آلہ بنا دیا؛ اب سوال یہ ہے کہ یہ آلہ آگے کیا دکھائے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *