Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

سونا پھر مہنگا: فی تولہ قیمت 4 لاکھ 37 ہزار سے تجاوز کر گئی

سونے کی سلاخیں

اہم نکات:

– 24 قیراط سونا 1,200 روپے اضافے سے 437,536 روپے فی تولہ

– 10 گرام سونا 1,029 روپے اضافے سے 375,116 روپے؛ 22 قیراط (10 گرام) 343,868 روپے

– چاندی 66 روپے اضافے سے 6,588 روپے فی تولہ (10 گرام: 5,648 روپے)

– عالمی منڈی: اسپاٹ گولڈ 4,160 ڈالر فی اونس کے قریب (18.4 ڈالر اضافہ)؛ چاندی 61.10 ڈالر فی اونس

5 اکتوبر کو پاکستان میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر اونچی اڑان بھری۔ میٹس گلوبل نیوز کے مطابق 24 قیراط سونا 1,200 روپے فی تولہ مہنگا ہو کر 437,536 روپے پر پہنچ گیا، جبکہ 10 گرام کی قیمت 375,116 روپے ہو گئی۔ چاندی بھی پیچھے نہ رہی — 66 روپے اضافے کے ساتھ 6,588 روپے فی تولہ۔

یہ اضافہ عالمی رجحان کا عکس ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اسپاٹ گولڈ 4,160 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ وجہ امریکہ کے توقع سے کمزور لیبر ڈیٹا ہیں، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے اس امکان پر یقین میں کمی آئی ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود بڑھائے گا۔ شرح سود میں نرمی کی توقع سونے جیسی غیر منافع بخش دھات کو پرکشش بنا دیتی ہے۔

یہ اتار چڑھاؤ نیا نہیں۔ یکم اکتوبر کو سونا 3,000 روپے فی تولہ گرا تھا (438,636 روپے پر)، اور ستمبر میں اس کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد کی کمی آئی تھی۔ اب عالمی اشاروں پر قیمتیں پھر سنبھل رہی ہیں۔

وسیع تر معیشت پر نظر ڈالیں تو تصویر ملی جلی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر ہے، مہنگائی تیل کی قیمتوں کے لحاظ سے 7.5 سے 8.2 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے (ڈان، 4 اکتوبر)، اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 277.10 کے قریب مستحکم ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس 26 اکتوبر کو ہوگا۔

سونا پاکستان میں محض ایک دھات نہیں، یہ قوم کے اضطراب کا پیمانہ ہے۔ جب روپے میں بچت کرنے والا عام شہری بینک ڈپازٹ چھوڑ کر سنار کی دکان کا رخ کرتا ہے تو وہ دراصل رسمی مالیاتی نظام پر عدم اعتماد کا ووٹ دے رہا ہوتا ہے۔ 11.5 فیصد پالیسی ریٹ کے باوجود حقیقی منافع مہنگائی کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے، اور سونا واحد ایسا اثاثہ لگتا ہے جو “جھوٹ نہیں بولتا”۔ یہی وجہ ہے کہ ستمبر کی گراوٹ کے باوجود خریدار واپس آ رہے ہیں — انہیں ڈر ہے کہ کہیں قیمتیں مزید نہ بڑھ جائیں۔

26 اکتوبر کا اسٹیٹ بینک کا فیصلہ اسی لیے سونے کے خریداروں کے لیے اہم ہوگا۔ اگر شرح سود میں کمی کا اشارہ ملا تو روپے کی بچت مزید بے وقعت ہوگی اور سونے کی طلب بڑھ سکتی ہے۔ اور اگر بینک نے سختی برقرار رکھی تو قیمتیں کچھ سنبھل سکتی ہیں۔ فی الحال سنار کی دکانیں پھر گاہکوں سے بھری نظر آ رہی ہیں — اور یہ بھیڑ معیشت کے بارے میں بینکوں کی رپورٹوں سے زیادہ سچ بولتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *