Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

پاکستان چیمپئنز ڈبلیو سی ایل سے باہر: این او سی نہ ملنے پر شرکت سے دستبردار

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی

پاکستان ڈبلیو سی ایل سے کیوں باہر ہوا؟

5 اکتوبر کو پاکستان چیمپئنز نے باضابطہ اعلان کیا کہ ٹیم ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) کے جاری سیزن میں حصہ نہیں لے سکے گی۔ وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کھلاڑیوں کو این او سی دینے سے انکار برقرار رکھنا ہے۔ ٹیم کے بیان میں کہا گیا: “پاکستان چیمپئنز افسوس کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں کہ ٹیم ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں حصہ نہیں لے سکے گی، کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مطلوبہ این او سی جاری کرنے سے انکار برقرار رکھا ہے۔” بیان میں پی سی بی کے اختیار کا احترام ظاہر کیا گیا، ساتھ ہی کھلاڑیوں کے ٹیم کی نمائندگی نہ کر سکنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا۔ ٹیم کے مالک کامل خان نے پی سی بی سے باضابطہ درخواست کی تھی کہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے، لیکن بورڈ ٹس سے مس نہ ہوا۔

این او سی کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

این او سی یعنی “نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ” وہ اجازت نامہ ہے جو کسی کھلاڑی کے متعلقہ بورڈ کی طرف سے جاری ہوتا ہے تاکہ وہ غیر ملکی لیگز میں کھیل سکے۔ پی سی بی کے معاہدہ شدہ یا اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے کھلاڑیوں کے لیے یہ لازمی ہے۔ این او سی کے بغیر کھیلنے کی صورت میں کھلاڑی کو بورڈ کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان نامزد شاہد آفریدی سمیت پاکستانی کھلاڑی دبئی روانہ ہی نہ ہو سکے۔

اس تنازع کی جڑ کیا ہے؟ بھارتی کھلاڑیوں سے معافی کا مطالبہ کیا تھا؟

کہانی گزشتہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ڈبلیو سی ایل 2025 سے شروع ہوتی ہے۔ پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے دوران انڈیا چیمپئنز نے پاکستان کے خلاف دو بار — گروپ میچ اور سیمی فائنل — کھیلنے سے انکار کر دیا۔ پی سی بی نے 3 اگست 2025 کو منتظمین کے رویے کو “منافقت اور تعصب سے آلودہ” قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ڈبلیو سی ایل میں شرکت پر مکمل پابندی لگا دی۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے مطالبہ کیا تھا کہ بھارتی کھلاڑی تحریری معافی جاری کریں اور ہاتھ ملائیں؛ منتظمین نے تجارتی شرائط تو مان لیں مگر معافی اور ہاتھ ملانے کی شرائط مسترد کر دیں۔ یہی وہ گرہ ہے جو آج تک نہیں کھلی۔

اس فیصلے سے کیا متاثر ہوا؟

سب سے بڑا نقصان 10 اکتوبر کو دبئی میں ہونے والا بھارت-پاکستان لیجنڈز کا ٹاکرا ہے جو اب نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ 3 اکتوبر کو بنگلہ دیش کے خلاف افتتاحی میچ ملتوی ہوا اور 5 اکتوبر کو آسٹریلیا کے خلاف میچ منسوخ کر دیا گیا۔ پاکستان پچھلے دونوں سیزنز میں رنر اپ رہا تھا، اس لیے اس بار ٹیم کو فیورٹ سمجھا جا رہا تھا۔

اب کیا ہوگا؟

مختصر مدت میں تو کچھ نہیں — پاکستان اس سیزن سے باہر ہے۔ طویل مدت میں سوال یہ ہے کہ کیا ڈبلیو سی ایل منتظمین پی سی بی کو منانے کے لیے کوئی ایسا فارمولا نکال سکتے ہیں جو بورڈ کی عزت بھی بچائے اور ٹورنامنٹ کی تجارتی کشش بھی۔ کیونکہ ایک حقیقت منتظمین بھی جانتے ہیں: بھارت-پاکستان کا میچ ہی اس لیگ کی سب سے بڑی دکان ہے، اور اس کے بغیر ڈبلیو سی ایل کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ گیند اب ان کے کورٹ میں ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *