اتوار کی رات تقریباً تین بجے جب مذاکرات کی میز سے اٹھنے کی خبر آئی تو حیرت کم اور تھکاوٹ زیادہ محسوس ہوئی۔ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان چار مراحل میں مسودے تیار ہوئے، ان میں ترامیم ہوئیں، اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے بقول 99 فیصد نکات پر اتفاق بھی ہو گیا۔ پھر آخری لمحے میں سب کچھ بکھر گیا۔
نقوی کا دعویٰ ہے کہ وہ معاہدے کی نقل لے کر صدر آصف علی زرداری کے پاس گئے، اور واپسی پر دیکھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس میں تبدیلیاں کر دی تھیں۔ ان کے الفاظ میں آفریدی نے “مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی” اور مارچ کے دوران ضائع ہونے والی جانوں کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔
جن نکات پر اتفاق ہوا تھا وہ معمولی نہیں تھے: کے پی حکومت دہشت گرد تنظیموں بشمول ٹی ٹی پی کی غیر مشروط مذمت کرے گی، افغان مہاجرین کی واپسی سمیت قومی پالیسی کی حمایت کرے گی، افغان طالبان حکومت سے کوئی رابطہ نہیں رکھے گی، انسداد دہشت گردی اور پولیس آپریشنز کے لیے خاطر خواہ فنڈنگ دے گی اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون مضبوط کرے گی۔ پھر آخری مرحلے میں کے پی حکومت پیچھے ہٹ گئی۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کا موقف مختلف ہے۔ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ انہیں “انصاف، آئین اور قانون کی حکمرانی کی مکمل بحالی” چاہیے، عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور عدالتی احکامات کے مطابق انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اسے تعطل قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا: “بات چیت سے منہ موڑنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔” اسد قیصر کا اصرار ہے کہ امن و امان اور انسداد دہشت گردی کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے کہا کہ کوشش معاملے کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کی تھی، اور مذاکرات کی تجویز ان کے چیئرمین نے دی تھی۔ میزبانی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی۔
اب ذرا اس تماشے سے پیچھے ہٹ کر دیکھیے۔ یہ مذاکرات دراصل دو مختلف کھیل تھے جو ایک میز پر کھیلے جا رہے تھے۔ حکومت کے لیے یہ کے پی حکومت سے انسداد دہشت گردی پر تحریری وابستگی لینے کا موقع تھا — ایک ایسا دستاویز جسے بعد میں ہر ناکامی پر ان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ عمران خان تک رسائی اور ان کی صحت کا معاملہ تھا — ایک ایسا جذباتی محرک جو ان کے کارکنوں کو متحرک رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ “99 فیصد اتفاق” کے دعوے کے باوجود بات ٹوٹی۔ وہ ایک فیصد — کے پی میں دہشت گردی کے خلاف بیانیے کی ملکیت — دراصل سو فیصد تھا۔ حکومت چاہتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ کا کریڈٹ اور ذمہ داری، دونوں صوبائی حکومت کے کھاتے میں ڈالے جائیں۔ پی ٹی آئی جانتی ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کا مطلب اپنے ہی صوبے میں سیاسی خودکشی ہوگا، جہاں اس کے ووٹر افغان پالیسی پر پہلے ہی ناراض ہیں۔
تو یہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے — یہ اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہوئے۔ دونوں فریقوں کو وہ مواد مل گیا جو انہیں اپنے اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنا تھا: حکومت کہہ سکتی ہے کہ ہم نے بات کی، انہوں نے توڑی۔ پی ٹی آئی کہہ سکتی ہے کہ ہم انصاف مانگتے رہے، انہوں نے دباؤ ڈالا۔ اسٹیج کی یہ سیاست تب تک چلے گی جب تک دونوں میں سے کوئی ایک یہ تسلیم نہ کرے کہ کے پی میں دہشت گردی کا مسئلہ نہ تو صرف وفاق کا ہے، نہ صرف صوبے کا۔ وہ دن ابھی دور لگتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)