سپین کی سیاست نے ایک ہفتے میں وہ موڑ لیا ہے جس کا اندازہ چند ماہ قبل کسی کو نہ تھا۔ وزیراعظم پیڈرو سانچز نے 5 اکتوبر کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ پولنگ 29 نومبر کو ہوگی — اصل شیڈول کے مطابق انتخابات اگست 2027 تک ہونے تھے۔ یہ فیصلہ ہاؤسنگ بحران پر پارلیمنٹ میں حکومت کی شکست کے فوراً بعد سامنے آیا۔
واقعات کی ترتیب:
23 ستمبر — ایک بے دخلی نے ملک کو ہلا دیا: میڈرڈ میں 87 سالہ میریکارمن اباسکل کو ان کے کرائے پر قابو پائے گئے فلیٹ سے بے دخل کر دیا گیا۔ یہ فلیٹ ایک سرمایہ کاری فنڈ نے خریدا تھا۔ بے دخلی کی ٹیلی ویژن کوریج نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ چند روز میں میڈرڈ کے پویرتا دل سول میں خیمہ بستی قائم ہو گئی اور مظاہرین نے وہیں ڈیرے ڈال لیے۔
3 اکتوبر — ملک گیر احتجاج: دسیوں ہزار افراد سپین بھر میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کرایوں پر قابو پایا جائے اور کمزور کرایہ داروں کو بے دخلی سے تحفظ دیا جائے۔
2 اکتوبر — پارلیمنٹ میں حکومت کی شکست: سانچز حکومت کے دو ہنگامی ہاؤسنگ آرڈیننس مسترد کر دیے گئے۔ ان میں کرایہ داری معاہدوں کی خودکار تجدید، کمزور کرایہ داروں کی بے دخلی پر پابندی اور زمینداروں و قیاس آرائیوں پر قدغن شامل تھیں۔ ان کے خلاف ووٹ دینے والوں میں قدامت پسند پارٹیڈو پاپولر (پی پی)، انتہائی دائیں بازو کی ووکس اور سابق اتحادی جنٹس پر کاتالونیا شامل تھے۔
5 اکتوبر — انتخابات کا اعلان: سانچز نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ایک وسیع ترقی پسند اکثریت” چاہتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی حکومت سے “غلطیاں” ہوئی ہیں۔ سانچز 2018 سے وزیراعظم ہیں اور یورپ کے طویل ترین عرصے تک برسرِ اقتدار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
انتخابی جائزوں کی صورتحال سانچز کے لیے حوصلہ افزا نہیں۔ ستمبر میں کیے گئے ایل پائس/کادینا سیر کے سروے (40 ڈی بی) کے مطابق پی پی 31.6 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، سانچز کے سوشلسٹ 27.4 فیصد پر ہیں جبکہ ووکس 18.4 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
یہ انتخابات محض سپین کا اندرونی معاملہ نہیں۔ ہاؤسنگ کا بحران یورپ بھر میں سیاسی زمین ہلا رہا ہے — لزبن سے برلن تک نوجوان کرایہ دار مہنگے کرایوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اگر سپین میں دائیں بازو کی حکومت آتی ہے تو یورپی یونین کی کونسل میں طاقت کا توازن مزید دائیں طرف جھک جائے گا، جس کے اثرات ماحولیاتی پالیسی سے لے کر امیگریشن تک ہر شعبے پر پڑیں گے۔ دوسری طرف، اگر سانچز واقعی وسیع ترقی پسند اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ یورپ کے بائیں بازو کے لیے ایک نادر کامیابی کی کہانی ہوگی۔ 29 نومبر کی رات صرف میڈرڈ نہیں، برسلز بھی جاگ رہا ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)