Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

سائبیریا میں مشتبہ طاعون سے لیب ملازمہ کی موت، تقریباً دو سو افراد طبی نگرانی میں — روس کا صورتِ حال قابو میں ہونے کا دعویٰ

طاعون کا جراثیم یرسینیا پیسٹس کا خوردبینی عکس

روس کے مشرقی سائبیریا میں ایک نوجوان خاتون کی پراسرار موت نے دنیا بھر کے صحت کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ مرنے والی 28 سالہ داریا شپیلووا ارکوتسک کے انسدادِ طاعون تحقیقاتی ادارے میں کام کرتی تھیں — یعنی وہی ادارہ جو طاعون جیسے مہلک امراض کی تحقیق اور روک تھام کا ذمہ دار ہے۔ آزاد روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شپیلووا کام کے دوران زندہ بیکٹیریا والی ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے سے متاثر ہوئیں، اور چند ہی دنوں میں شدید نمونیا ان کی جان لے گیا۔

واقعے کا سلسلہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: شپیلووا 29 ستمبر کو شلیخوف کے ضلعی اسپتال میں داخل ہوئیں۔ ان کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔ 2 اکتوبر کو وہ زندگی کی بازی ہار گئیں۔ رپورٹس کہتی ہیں کہ وہ بیمار اس وقت ہوئیں جب وہ منگولیا کی سرحد کے قریب بوریاتیہ کے علاقے میں فیلڈ دورے پر تھیں۔ بوریاتیہ کے گورنر الیکسی سائیڈینوف نے سوشل میڈیا پر پہلے تو لکھا کہ خاتون کی “طاعون سے موت” ہوئی ہے، بعد میں انہوں نے اپنے الفاظ بدلے اور کہا کہ خاتون کی “ممکنہ طور پر طاعون سے” موت ہوئی۔

روسی حکام نے ابھی تک طاعون کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔ صحت کی نگرانی کرنے والی وفاقی ایجنسی روسپیوٹریبنادزور نے موت کی وجہ کو “نامعلوم وجہ کا نمونیا” قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ مریضہ کے نمونوں میں ان کے پیشہ ورانہ کام سے منسلک کوئی جرثومہ نہیں ملا، نہ ہی ادارے میں خطرناک جرثوموں سے متعلق کسی حادثے کا کوئی ثبوت ملا۔ ارکوتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے کہا کہ مرنے والی سے رابطہ رکھنے والے تقریباً 200 افراد کو احتیاطی طور پر طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان میں سے کسی میں بھی بیماری کی علامات نہیں اور ان کے لیبارٹری ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ صورتِ حال کو “مستحکم” قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود شلیخوف کے اسپتال اور قریبی طبی مراکز میں قرنطینہ کے اقدامات نافذ کیے گئے ہیں، اور شلیخوف میں ارکوتسک ایلومینیم پلانٹ کے کارکنوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کریملن نے پیر کو اپنا واحد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صرف سرکاری اداروں کے بیانات پر بھروسہ کریں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے الفاظ تھے: “روسپیوٹریبنادزور کے سرکاری بیانات پر بھروسہ کیا جائے، طرح طرح کی افواہوں اور قیاس آرائیوں پر نہیں۔”

عالمی سطح پر ردِ عمل بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ CDC اور دیگر اداروں کے ساتھ صورتِ حال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ معلومات فوری اور کھلے انداز میں شیئر کرے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں، لیکن خبردار کیا کہ “اگر اس طرح کی کوئی چیز نکلے تو وہ تیزی سے پھیل سکتی ہے۔” عالمی ادارہ صحت کو بھی رپورٹس کا علم ہے، مگر اس نے بھی موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

طاعون کی بیماری یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا سے ہوتی ہے۔ اس کی نیومونک قسم سب سے خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ متاثرہ شخص کی سانس کی بوندوں کے ذریعے قریبی اور مسلسل رابطے میں دوسروں کو لگ سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، لیکن اینٹی بائیوٹک ادویات سے اس کا علاج ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک الگ تھلگ مشتبہ کیس سے بڑی وبا پھیلنے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔

یہ واقعہ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ موت ایسے ادارے کے اندر ہوئی جو خود طاعون پر تحقیق کرتا ہے — اور یہ لیبارٹریوں میں حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ حکام کے متضاد بیانات اور ابتدائی خموشی نے تشویش کو مزید بڑھایا، خاص طور پر اس وقت جب ایک علاقائی گورنر نے پہلے “طاعون سے موت” کہہ کر بعد میں لفظ بدل دیے۔ دوسری طرف حقائق بھی واضح ہیں: ابھی تک طاعون کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں، تمام رابطوں کے ٹیسٹ منفی ہیں اور کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ یعنی اس وقت یہ ایک خطرناک واقعہ ضرور ہے، مگر وبا نہیں۔ آنے والے دنوں میں لیبارٹری ٹیسٹوں کے حتمی نتائج ہی بتائیں گے کہ داریا شپیلووا کی موت کے پیچھے واقعی طاعون تھا یا کوئی اور وجہ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *