اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ایک نمایاں سیاسی شخصیت کو تیس روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن جماعتیں وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
حراست کی وجوہات
ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے تحت یہ اقدام اٹھایا۔ متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ مارچ کے دوران ممکنہ خلفشار سے بچنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل
اپوزیشن رہنماؤں نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے اور اس طرح کی حراستیں ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے قانون کے دائرہ کار میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔
مارچ کی صورتحال
ملک بھر سے کارکنان کی بڑی تعداد اسلام آباد کی جانب رخ کر رہی ہے، جس کے باعث دارالحکومت اور اردگرد کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ صورتحال کشیدہ ہونے کے پیش نظر مختلف راستوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)