Tuesday, 3 November 2026
بریکنگ نیوز
صحت

پاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس: خیبر کی 13 ماہ کی بچی متاثر، 2 سے 8 نومبر تک مہم جاری

پاکستان میں پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران بچے کو قطرے پلائے جا رہے ہیں

اہم نکات:

  • 2026 کا آٹھواں پولیو کیس خیبر ضلع سے رپورٹ ہوا ہے — متاثرہ 13 ماہ کی بچی ہے۔
  • یہ خیبر ضلع کا اس سال دوسرا اور خیبر پختونخوا کا چھٹا کیس ہے؛ سندھ سے دو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
  • 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم جاری ہے۔
  • پاکستان میں پولیو کیسز 1990 کی دہائی کے اوائل کے اندازاً 20 ہزار سے کم ہو کر 2025 میں 31 اور اس سال اب تک 8 رہ گئے ہیں۔

اسلام آباد — نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے پولیو (این ای او سی) نے 2026 کا آٹھواں پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے تصدیق کیا ہے۔ متاثرہ بچی کی عمر 13 ماہ ہے اور اس کا تعلق تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز بی سے ہے۔

پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے کیس کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور وائرس کی مزید منتقلی روکنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر جوابی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں ہدفی ویکسینیشن اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ حکام کے مطابق پشاور بلاک، جس میں خیبر اور پشاور کے اضلاع شامل ہیں، میں ماحولیاتی نگرانی کے دوران وائرس کی موجودگی مسلسل سامنے آ رہی ہے، جو بچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے والدین سے اپیل کی ہے کہ 2 سے 8 نومبر تک جاری ذیلی قومی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بچہ اس وقت تک محفوظ نہیں جب تک تمام بچوں کو مسلسل ویکسین نہ دی جائے۔

رواں سال پاکستان میں پہلے ہی چار بڑی پولیو مہمات چلائی جا چکی ہیں، جن میں چار کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچوں کو کئی بار ویکسین دی گئی۔ ستمبر کی ذیلی قومی مہم میں ملک بھر میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

آخری میل سب سے مشکل کیوں ہے؟

اعداد ایک طرف امید دلاتے ہیں اور دوسری طرف تشویش۔ 99.8 فیصد کمی ایک غیر معمولی کامیابی ہے، لیکن کیسز کا خیبر پختونخوا میں مرکوز ہونا — آٹھ میں سے چھ، جن میں سے چار جنوبی اضلاع سے — یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ اب ملک گیر نہیں، بلکہ چند مخصوص علاقوں تک سمٹ آیا ہے۔ یہی علاقے سب سے مشکل ہیں: جہاں رسائی دشوار ہے، جہاں معمول کی ویکسینیشن کمزور ہے اور جہاں وائرس گندے پانی میں مسلسل گردش کر رہا ہے۔

اسی لیے جاری مہم کی کامیابی کا انحصار صرف تعداد پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ کیا ویکسینیشن ٹیمیں ان ہی گھروں تک پہنچ پاتی ہیں جہاں پہلے قطرے نہیں پہنچے۔ ایک بچے کا رہ جانا بھی وائرس کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جیسی صورتحال بھی صحت کے نظام پر دباؤ بڑھاتی ہے، جبکہ ڈینگی جیسی بیماریوں سے نمٹنا بھی اسی نظام کی ذمہ داری ہے۔ پولیو کے خاتمے کی جنگ اب میدان میں نہیں، گھر گھر میں لڑی جا رہی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *