لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہفتے کی رات پاکستان نے وہ کر دکھایا جس کا انتظار کئی برس سے تھا۔ سری لنکا کے دیے گئے 326 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میزبان ٹیم نے تین وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور ون ڈے ٹرائی سیریز کی ٹرافی اپنے نام کر لی۔ یہ 2008 کے بعد پاکستان کا پہلا ون ڈے ٹرائی سیریز ٹائٹل ہے۔
فائنل کی کہانی فخر زمان کی اننگز کے بغیر ادھوری ہے۔ تجربہ کار اوپنر نے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جن میں 11 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ ان کی سنچری صرف 84 گیندوں پر مکمل ہوئی۔ فخر اس سے پہلے چار اننگز میں محض 31 رنز بنا سکے تھے اور فیلڈنگ کے دوران گھٹنے میں چوٹ بھی لگی تھی، مگر فائنل کی رات انہوں نے پرانے فخر زمان کی یاد تازہ کر دی۔
پاکستان کا آغاز اچھا نہیں رہا تھا۔ 14 رنز پر دو وکٹیں گر چکی تھیں — معاذ صداقت پانچ اور بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ اس موقع پر فخر کا ساتھ 19 سالہ سعد بیگ نے دیا، جنہوں نے 75 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی شراکت نے میچ کا رخ موڑ دیا۔
فخر 34 ویں اوور میں 220 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو ابھی 106 رنز درکار تھے۔ یہاں عرفات منہاس نے 31 گیندوں پر 61 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر دباؤ ختم کیا۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آخری اوور سے پہلے والے اوور کی تیسری گیند پر چھکا لگا کر فتح پر مہر لگائی۔ پاکستان نے 48.3 اوورز میں 331 رنز بنا لیے۔
سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 325 رنز بنائے تھے۔ کمنڈو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی — یہ ان کی پہلی ون ڈے سنچری تھی — جبکہ پون رتھنائیکے نے 77 رنز بنائے۔ ایک موقع پر سری لنکا 41 اوورز میں دو وکٹوں پر 255 رنز کے ساتھ بہت بڑے مجموعے کی طرف بڑھ رہا تھا، مگر پاکستانی بولرز نے آخری دس اوورز میں واپسی کی اور مہمان ٹیم کو 325 تک محدود رکھا۔
یہ تعاقب ون ڈے فائنل کی تاریخ کے مشترکہ سب سے بڑے کامیاب تعاقب کے برابر ہے۔ اس سے پہلے 2002 میں بھارت نے لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف نیٹ ویسٹ فائنل میں اتنا ہی ہدف حاصل کیا تھا۔ 31 ہزار سے زیادہ تماشائیوں کے سامنے، شام کی اوس میں گیند گیلی ہونے کے باوجود، پاکستانی بیٹنگ نے اعصاب قابو میں رکھے۔
فخر زمان کی یہ اننگز ریکارڈ بک میں بھی درج ہو گئی۔ یہ ان کی 12 ویں ون ڈے سنچری تھی اور ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنل میں ان کی دوسری سنچری — پہلی 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف تھی۔ اس طرح انہوں نے سعید انور کا ریکارڈ برابر کر دیا، جو اب تک ون ڈے ٹورنامنٹ فائنلز میں دو سنچریاں بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز تھے۔ فخر کے ون ڈے رنز 4000 سے بھی تجاوز کر گئے — 96 اننگز میں 4019 رنز کے ساتھ وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے 16 ویں پاکستانی بن گئے۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے فتح کا سہرا بولرز کی آخری اوورز میں واپسی اور فخر کی اننگز کے سر باندھا، اور نوجوانوں سعد بیگ، عرفات منہاس اور محمد نواز کی اہم شراکتوں کی بھی تعریف کی۔
یہ ٹائٹل اس لیے بھی خاص ہے کہ اسی سیریز میں چند روز پہلے اسی میدان پر سری لنکا نے پاکستان کو محض 110 رنز پر ڈھیر کر کے آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی — اس شکست کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ اسی ٹیم کے خلاف فائنل میں 326 رنز کا تعاقب کرنا، اور اسے مکمل کرنا، اس ٹیم کے بدلتے مزاج کی علامت ہے۔ فائنل سے پہلے کا جائزہ یہاں۔ گزشتہ سال ہوم ٹرائی سیریز کے فائنل میں نیوزی لینڈ سے شکست کا داغ بھی اس فتح سے کچھ دھل گیا ہے۔
آگے کا راستہ اب اگلے برس کے ورلڈ کپ کی تیاری سے جڑا ہے۔ ٹرائی سیریز کی ٹرافی اس بات کی ضمانت نہیں کہ ورلڈ کپ بھی جیتا جائے گا، مگر یہ ضرور بتاتی ہے کہ دباؤ کے لمحوں میں یہ ٹیم بڑے ہدف کا تعاقب کر سکتی ہے — اور یہ اعتماد کسی بھی ٹرافی سے کم قیمتی نہیں۔ (آئی سی سی کی میچ رپورٹ)

قارئین کے تبصرے (0)