Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

اگست سے عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں، ان کی جان کو خطرہ ہے: بیٹے سلیمان خان کا انتباہ

سابق وزیر اعظم عمران خان 2018 میں اسلام آباد میں ایک سرکاری ملاقات کے دوران

سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سلیمان خان نے خبردار کیا ہے کہ اگست سے ان کے والد سے خاندان اور وکلا کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ بیان ہفتے کو برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں سامنے آیا، جس نے پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر عمران خان کی جیل میں حالت اور ان تک رسائی کا معاملہ سرخیوں میں لا دیا ہے۔

سلیمان خان نے کہا کہ اگست میں ان کے والد نے واضح طور پر بتایا تھا کہ ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، اس کے بعد سے نہ خاندان کے کسی فرد نے انہیں دیکھا ہے اور نہ وکلا ان تک پہنچ سکے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے اس خدشے کا حوالہ دیا کہ حکومت انہیں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی طرح مارنا چاہتی ہے، جو 2019 میں عدالت میں سماعت کے دوران انتقال کر گئے تھے۔

سلیمان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر الزام لگایا کہ وہ اگست میں سپریم کورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہے جس میں عمران خان کا اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں معائنہ اور علاج کرانے کے ساتھ خاندان سے باقاعدہ ملاقاتوں اور وکلا تک رسائی کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکم آج تک پورا نہیں ہوا۔

اپنے بیان میں سلیمان خان نے کہا: ”یہ واضح ہے کہ وہ انہیں مارنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ ملک کی سب سے مقبول سیاسی شخصیت ہیں اور ان سے خوفزدہ ہیں۔ اگر بدترین ہوا تو کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔“

دوسری طرف حکومت نے بدسلوکی اور قید تنہائی کے الزامات کی تردید کی ہے۔ وزارت اطلاعات نے اگست میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو تحریری جواب میں کہا تھا کہ عمران خان کسی حکومتی حکم کے تحت قید نہیں ہیں بلکہ عدالتوں کی سنائی گئی سزاؤں پر قید کاٹ رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ان کے ساتھ قیدیوں کے لیے طے شدہ قواعد کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے، جبکہ سلیمان خان اور ان کے حامی اس کی تردید کرتے ہیں۔

عمران خان، جن کی عمر 74 برس ہے، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان پر کرپشن اور رشوت ستانی کے مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں اور ان کے خلاف سو سے زائد مقدمات درج ہیں۔ وہ تمام الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کرتے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کا مقصد انہیں سیاست سے باہر رکھنا ہے۔ سلیمان خان ان کے پہلی شادی سے بڑے بیٹے ہیں۔

خاندان تک رسائی کا معاملہ پہلے بھی عدالتوں میں اٹھتا رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کے معاملے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کیا جا چکا ہے، جس کی تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔ اس پس منظر میں سلیمان خان کا تازہ بیان خاندان کی اس شکایت کو نئی شدت دیتا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں اور طبی سہولتوں کا معاملہ حل نہیں ہو رہا۔

یہ بیان اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ کسی سیاسی جماعت کے بیانئے سے ہٹ کر براہ راست خاندان کی طرف سے آیا ہے، اور اس میں تین ماہ کی خاموشی، سپریم کورٹ کے حکم اور مرسی سے موازنے جیسے نکات ایک ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تشدد اور جان کو خطرے سے متعلق دعوے سلیمان خان کے الزامات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور جنہیں حکومت مسترد کرتی ہے۔ جیل کے اندرونی حالات پر کوئی غیر جانبدار رپورٹ سامنے نہیں آئی، اس لیے اصل صورتحال کا فیصلہ صرف دعووں اور تردیدوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ حکومت یا جیل حکام اس بیان پر کوئی تازہ موقف دیتے ہیں یا نہیں، اور خاندان کی ملاقاتوں اور طبی معائنے سے متعلق درخواستیں عدالت میں کس رخ اختیار کرتی ہیں۔ سلیمان خان کے بیان کے بعد عمران خان کی صحت اور ان تک رسائی کا معاملہ آنے والے دنوں میں پاکستانی سیاست کی بحث کا مرکز رہنے کا امکان ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *