Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

امریکہ سے 150 سے زائد افغانوں کی پاکستان کے راستے بے دخلی کا منصوبہ — پہلی پرواز پیر کو متوقع

طورخم بارڈر پر افغان کسٹم اور بارڈر پٹرول اسٹیشن

امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ڈیڑھ سو سے زائد افغان تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کی تیاری کر رہی ہے، اور یہ بے دخلی پاکستان کے راستے عمل میں آئے گی۔ خبر جمعے کو رائٹرز اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں میں سامنے آئی۔ رپورٹوں کے مطابق پہلی پرواز پیر، 2 نومبر کو روانہ ہو سکتی ہے — حالانکہ انتظامیہ نے اس آپریشن کا باضابطہ اعلان ابھی تک نہیں کیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق درجنوں افغان شہری اس وقت ریاست لوئیزیانا میں حراست میں ہیں، جہاں سے انہیں ایک خصوصی چارٹر پرواز کے ذریعے پہلے پاکستان لے جایا جائے گا۔ عدالتی دستاویزات میں ایک مسافر کا نام بھی سامنے آیا ہے جسے نومبر کے پہلے ہفتے میں الیگزینڈریا، لوئیزیانا سے روانہ ہونے والی پرواز کی فہرست میں شامل بتایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بے دخلی براہ راست افغانستان نہیں ہو سکتی، کیونکہ واشنگٹن کے طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں — اسی لیے پاکستان کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

یہ افراد کون ہیں؟ افغان ایویک نامی تنظیم کے سربراہ شان وین ڈائیور کے مطابق، بے دخلی کا سامنا کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور امریکی انخلا کے بعد افغانستان سے فرار ہوئے تھے۔ وین ڈائیور نے رائٹرز سے کہا: “یہ وہ بھائی اور بیٹے ہیں جن کے عزیز امریکی افواج کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیتے رہے، ایسے خاندان جنہیں طالبان کے پاس نشانہ بنانے کی ہر وجہ پہلے سے موجود ہے۔” رپورٹوں کے مطابق متاثرین میں ایک ہم جنس پرست شخص بھی شامل ہے، جسے طالبان کے زیر انتظام افغانستان میں سخت سزا کا خطرہ لاحق ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مستقبل کی کسی بے دخلی کارروائی کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے “آپریشنل سیکیورٹی” کا حوالہ دیا ہے۔ دوسری طرف وین ڈائیور نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم افغانوں کو عارضی تحفظ دینے کا قانون منظور کرے تاکہ انہیں بے دخلی سے بچایا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان پہنچنے والے ان افراد کو آگے افغانستان دھکیلے جانے کا خطرہ ہے، جہاں انہیں قید، تشدد یا موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کا زاویہ اس خبر کو اور بھی اہم بنا دیتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان 2023 سے اب تک 20 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیج چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین کا خدشہ سب سے زیادہ اسی نکتے پر ہے — امریکہ سے پاکستان آنے والی پرواز محض ایک “ٹرانزٹ” نہ رہے، بلکہ ان افراد کی افغانستان منتقلی کا ذریعہ بن جائے۔ پاکستان پہلے ہی افغان مہاجرین کے معاملے پر عالمی برادری سے بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، اور سرحد پر کشیدگی کے اس دور میں یہ نیا معاملہ اسلام آباد کے لیے ایک اور سفارتی آزمائش بن سکتا ہے۔

یہ خبر صرف امیگریشن پالیسی کی نہیں، اس وعدے کے امتحان کی ہے جو امریکہ نے اپنے افغان ساتھیوں سے کیا تھا۔ 2021 کے انخلا کے وقت ہزاروں افغانوں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ امریکی افواج کا ساتھ دینے کی قیمت انہیں اپنی جان سے نہیں چکانی پڑے گی۔ اب، پانچ سال بعد، انہی لوگوں کے رشتہ داروں کو اسی ملک کے حوالے کیے جانے کا خطرہ ہے جس سے وہ بھاگے تھے — اور وہ بھی ایک ایسے راستے سے جس میں پاکستان کا کردار مرکزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منصوبہ محض ایک پرواز کی خبر نہیں، بلکہ آنے والے دنوں میں عدالتوں، کانگریس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان ایک بڑی کشمکش کی شروعات ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا افغانستان کو دوٹوک انتباہ اور ماسکو میں افغانستان پر علاقائی مذاکرات۔

ابھی یہ منصوبہ رپورٹوں کی حد تک ہے — نہ انتظامیہ نے اس کا اعلان کیا ہے، نہ پرواز کا حتمی وقت طے ہے۔ پیر سے پہلے عدالتی حکم یا کانگریس کی مداخلت اس کا رخ بدل سکتی ہے، اور 101اردو اس پیش رفت پر نظر رکھے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *