Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

ہفتہ وار مہنگائی 11.32 فیصد پر برقرار: ٹماٹر ایک ہفتے میں 35 فیصد مہنگا، ایل پی جی سال بھر میں دوگنی سے زیادہ

سبزی منڈی میں ٹماٹر اور سبزیوں کا اسٹال

س: اس ہفتے مہنگائی کی شرح کیا رہی؟ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) سالانہ بنیاد پر 11.32 فیصد رہا۔ ایک ہفتہ پہلے یہ شرح 11.85 فیصد تھی، یعنی سالانہ شرح میں کچھ کمی آئی ہے۔ ہفتہ وار بنیاد پر اشاریہ 0.35 فیصد گرا، 374.84 سے 373.51 پر آ گیا۔

س: سب سے زیادہ کیا مہنگا ہوا؟ ٹماٹر۔ ایک ہی ہفتے میں ٹماٹر کی اوسط قیمت 93.17 روپے سے بڑھ کر 125.70 روپے فی کلو ہو گئی، یعنی 34.91 فیصد اضافہ۔ آلو 3.27 فیصد اور ڈیزل 2.53 فیصد مہنگا ہوا۔ ڈیزل کی قیمت 392.17 سے بڑھ کر 402.08 روپے فی لیٹر ہو گئی، جو 31 اکتوبر سے نافذ 402.96 روپے کے نئے نرخ سے قریب تر ہے۔

س: کیا کچھ سستا بھی ہوا؟ ہاں۔ سب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی سستی ہوئی، اور مرغی، انڈے اور آٹے کی قیمتیں بھی نیچے آئیں۔ ایل پی جی کا 11.67 کلوگرام سلنڈر 6,310.76 سے کم ہو کر 6,264.79 روپے پر آیا، یعنی 0.73 فیصد کمی۔ یہ کمی اس سے پہلے والے ہفتے کے 22.44 فیصد کے بڑے جھٹکے کے بعد آئی ہے، اس لیے اسے ریلیف سے زیادہ ایک جھٹکے کے بعد معمولی نرمی کہنا بہتر ہے۔ پٹرول بھی 381.67 سے کم ہو کر 380.18 روپے فی لیٹر ہوا، 0.39 فیصد کمی۔

س: سال بھر کا موازنہ کیا بتاتا ہے؟ یہی اصل کہانی ہے۔ ایل پی جی ایک سال میں 106.86 فیصد مہنگی ہو چکی ہے، یعنی قیمت دوگنی سے زیادہ۔ سب سے کم سلیب کی بجلی 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد اور پٹرول 43.61 فیصد مہنگا ہے۔ ایس پی آئی 17 شہروں کی 50 منڈیوں میں 51 روزمرہ اشیا کی قیمتیں دیکھتا ہے، اس لیے یہ گھریلو بجٹ کا سب سے تیز سرکاری پیمانہ ہے۔

س: اس کا عام گھر پر کیا اثر ہے؟ توانائی کی قیمتوں کا دباؤ سب سے پہلے باورچی خانے میں محسوس ہوتا ہے۔ ایل پی جی اور ڈیزل مہنگا ہونے سے نہ صرف کھانا پکانا مہنگا ہوتا ہے بلکہ سامان کی ترسیل بھی مہنگی ہوتی ہے، اور وہ بوجھ سبزیوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ٹماٹر کا ایک ہفتے میں 35 فیصد بڑھنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ستمبر میں مجموعی صارف مہنگائی (سی پی آئی) 10.3 فیصد تھی، جو منصوبہ بندی کمیشن کے اندازے سے زیادہ ہے۔

یہ اعداد ایک دوہرے پیغام کے ساتھ آئے ہیں۔ ہفتہ وار اشاریہ کا گرنا اچھی خبر ہے، مگر سالانہ 11.32 فیصد کی شرح دوہرے ہندسے میں برقرار ہے، اور توانائی کی قیمتیں ہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ درآمدی انحصار اور خطے میں رسد کے خطرات کے باعث یہ دباؤ جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ توانائی کی قیمتوں کے جھٹکوں کو گھریلو بجٹ تک پہنچنے سے کیسے روکے، اور صارف کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگلے ہفتے کا اشاریہ اس نرمی کو برقرار رکھتا ہے یا ٹماٹر اور ڈیزل کی نئی لہر اسے پھر اوپر لے جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں: اکتوبر میں مہنگائی کا سرکاری اندازہ اور پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ نظام۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *