ایپل نے برسوں کی مزاحمت کے بعد بالآخر وہ کام کر دیا جس کا مداح برسوں سے انتظار کر رہے تھے: کمپنی نے لاس اینجلس میں اپنے “پرو اینڈ ٹیل” ایونٹ میں تاریخ کا پہلا ٹچ اسکرین والا میک بک پرو متعارف کرا دیا ہے۔ ایپل کے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس نے اعلان کرتے ہوئے کہا، “جی ہاں، پہلی بار ہم میک پر ٹچ لا رہے ہیں۔” نئے ماڈل 14 انچ اور 16 انچ میں دستیاب ہوں گے اور 6 نومبر سے فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
نئے لیپ ٹاپ کی سب سے بڑی تبدیلی اس کا ڈسپلے ہے، جسے ایپل نے “پرو لیڈ ایکس ڈی آر” کا نام دیا ہے۔ یہ ٹینڈم او ایل ای ڈی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس میں 2000 نٹس تک کی چمک، ایک کروڑ کے مقابلے میں ایک کا کنٹراسٹ تناسب اور 120 ہرٹز تک کی متغیر ریفریش ریٹ شامل ہے۔ ڈسپلے پی 3 اور ایڈوبی آر جی بی دونوں کلر اسپیسز کو سپورٹ کرتا ہے، اور عکاسی کم کرنے کے لیے نینو ٹیکسچر گلاس کا آپشن بھی موجود ہے۔ ٹچ سینسر ڈسپلے پینل کے اندر ہی نصب کیا گیا ہے تاکہ ردعمل میں تاخیر کم ہو، اور نئے ڈیزائن کردہ قبضے (ہنج) سے اسکرین کو چھونے پر لیپ ٹاپ مستحکم رہتا ہے۔
ایپل کی یہ تبدیلی اس لیے بھی تاریخی ہے کہ کمپنی برسوں تک میک پر ٹچ کے خلاف دلیل دیتی رہی تھی، جبکہ ونڈوز لیپ ٹاپس میں ٹچ اسکرین ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے عام ہے۔ تجزیہ کار اینشل سیگ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایپل ٹچ کی مخالفت میں “ہمیشہ غلط تھا، اور یہ حقیقت کا لمبا ہاتھ ہے جو آخر کار پہنچ گیا۔” دوسری طرف، نئے میک بک پرو نے روایتی لیپ ٹاپ کی شکل برقرار رکھی ہے — یہ ٹیبلٹ میں تبدیل نہیں ہوتا، کی بورڈ اور ٹریک پیڈ بدستور موجود ہیں، اور ٹچ ان کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
اندرونی خصوصیات بھی کم متاثر کن نہیں ہیں۔ نئے ماڈلز میں ایپل کی ایم 5 پرو یا ایم 5 میکس چپس لگی ہیں، 128 جی بی تک یونیفائیڈ میموری اور 16 ٹی بائٹ تک اسٹوریج کا آپشن ہے، اور بیٹری 24 گھنٹے تک چلنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ آئی فون سے مشہور ڈائنامک آئی لینڈ اب میک پر بھی آ گیا ہے، جہاں اسپاٹ لائٹ، لائیو ایکٹیویٹیز اور سری اے آئی نظر آئیں گی۔ اس کے علاوہ تین تھنڈربولٹ 5 پورٹس، ایچ ڈی ایم آئی، ایس ڈی ایکس سی کارڈ سلاٹ، میگ سیف، وائی فائی 7 اور 12 میگا پکسل سینٹر اسٹیج کیمرا بھی شامل ہے۔
قیمت کا معاملہ البتہ صارفین کو چونکا سکتا ہے۔ 14 انچ ماڈل کی قیمت 2899 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جبکہ مکمل اپ گریڈ شدہ 16 انچ ماڈل کی قیمت 14549 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے — اس کی ایک وجہ میموری کی جاری قلت اور مصنوعی ذہانت کی نئی لہر کے باعث ہارڈ ویئر کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ آئی ڈی سی کے ٹام مینیلی کے مطابق یہ لیپ ٹاپ خاص طور پر تخلیق کاروں، ڈیزائنرز اور فوٹوگرافروں کے لیے بنایا گیا ہے، جو اسکرینوں کو چھو کر کام کرنے کی عادی نسل سے ہیں۔ او ایل ای ڈی کے برن ان سے بچاؤ کے لیے ایپل نے چیسس کا ڈیزائن بھی بدلا ہے تاکہ گرم ہوا ڈسپلے سے دور رہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے یہ خبر ابھی زیادہ تر دلچسپی کی حد تک ہے، کیونکہ سرکاری قیمت اور دستیابی کا اعلان مقامی مارکیٹ کے لیے بعد میں ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے: ایپل کے اس فیصلے نے لیپ ٹاپ کی دنیا میں ایک پرانی بحث ختم کر دی ہے۔ ایپل کا ویلکم ہوم ایونٹ بھی اسی ہفتے خبروں میں رہا، اور اب ٹچ اسکرین والا میک اس بات کی علامت بن گیا ہے کہ ایپل بھی آخر کار صارفین کی عادت کے سامنے جھک گیا ہے — اسکرین کو چھونا اب میک پر بھی اتنا ہی فطری ہوگا جتنا آئی فون پر ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)