وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد جماعت اسلامی نے اپنا اسلام آباد مارچ ایک بار پھر موخر کر دیا ہے، لیکن اس بار امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ آخری مہلت ہے۔ اگر حکومت نے وسط نومبر سے پہلے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا لائحہ عمل اور ریلیف پیکج کا اعلان نہ کیا تو مارچ ہر صورت ہوگا۔
واقعات کی ترتیب
- 22 ستمبر 2026: وزیراعظم کے رابطے اور مذاکرات کی دعوت پر جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اگلا مرحلہ موخر کیا، تاہم احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
- 23 اکتوبر 2026: پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا، جس میں ملک بھر کے اضلاع میں دھرنے دیے گئے۔
- 27 اکتوبر 2026: وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات ہوئی، جس میں مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا۔
- 28 اکتوبر 2026: ملاقات کی تفصیلات سامنے آئیں — حکومت نے فیصلے کے لیے سات سے دس دن مانگے، جماعت اسلامی نے وسط نومبر کو مارچ کی حتمی تاریخ قرار دیا۔
منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید فراست شاہ اور اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا شامل تھے۔ حکومتی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ سمیت کئی وزراء شریک ہوئے۔
ملاقات میں طے پایا کہ تین تین ارکان پر مشتمل مشترکہ کمیٹی دو کام کرے گی: پہلا، پٹرول پر جاری ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد فائدہ اٹھا سکیں؛ دوسرا، آئندہ بجٹ کے لیے پٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کی قابل عمل تجاویز تیار کرنا۔ حکومتی کمیٹی میں اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثناءاللہ ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا مذاکرات کریں گے۔
ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد مارچ اب مزید موخر نہیں ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، مارچ وسط نومبر میں ہوگا اور یقیناً ہوگا — حکومت اس سے پہلے ریلیف پیکج کا اعلان کرے اور اس بھتہ لیوی کے خاتمے کا طریقہ کار بنائے، ورنہ بات سڑک پر بیٹھ کر کرنی پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں، اور مارچ کی تیاریاں پہلے ہی مکمل ہیں۔
بنیادی اختلاف طریقہ کار پر ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم کہتے ہیں لیوی ختم کرو، وہ کہتے ہیں مرحلہ وار آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی لیوی کا فوری خاتمہ چاہتی ہے، جبکہ حکومت مرحلہ وار کمی کی بات کر رہی ہے۔ لیوی میں 20 سے 30 روپے کمی کی مبینہ حکومتی تجویز کو حافظ نعیم نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم محض مونگ پھلی قبول نہیں کر سکتے، یعنی اتنی معمولی کمی ان کے مطالبے کا جواب نہیں۔
وزیراعظم نے وفد کو بتایا کہ اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد فیول ریلیف اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ اسکیم 17 ستمبر کو شروع ہوئی تھی اور اس میں موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے بعد میں کہا کہ آنے والے دنوں میں مستفید ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
احسن اقبال نے ملاقات کے بعد کہا کہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی ایک ہی مقصد پر متفق ہیں: عوام کی مشکلات کم کرنا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ریلیف کا راستہ پائیدار اور قابل برداشت ہونا چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، ہمیں ایک ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو دیرپا اور پائیدار ہو اور جس کی لاگت ہم برداشت کر سکیں۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ حکومت اپنی وسعت کے مطابق عام آدمی اور غریب آدمی کو ریلیف دے رہی ہے اور اسے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ پٹرولیم لیوی کا بوجھ سب سے زیادہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑ رہا ہے، اور موجودہ ریلیف پیکج عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جماعت اسلامی احتجاج نہ کرتی تو کیا یہ ریلیف پیکج آتا؟ یہ سوال ان کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سڑک کا دباؤ اور مذاکرات کی میز دونوں کو ساتھ لے کر چلا جا رہا ہے۔
اب اگلے سات سے دس دن فیصلہ کن ہوں گے۔ مشترکہ کمیٹی کو نہ صرف ریلیف اسکیم کی توسیع بلکہ لیوی میں کمی کا ایسا فارمولا پیش کرنا ہے جو حکومت کے بجٹ کے اندر بھی رہے اور جماعت اسلامی کو بھی قابل قبول ہو۔ اگر کمیٹی کوئی ٹھوس اعلان نہ کر سکی تو وسط نومبر میں اسلام آباد ایک اور بڑے سیاسی اجتماع کی طرف بڑھے گا — اور اس بار جماعت اسلامی نے صاف کہہ دیا ہے کہ تاریخ آگے نہیں بڑھے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)